مشی گن میں سائیکلوسپوریاسس کی وبا نے سنگین رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں متاثرہ مریضوں کی تعداد 12 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ خوردبینی طفیلیے سے پھیلنے والی یہ آنتوں کی بیماری ریاستی محکمہ صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
اس وبا کے پھیلاؤ نے ہسپتالوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ ریاست بھر کے طبی مراکز میں شدید اسہال، پیٹ میں مروڑ اور تھکاوٹ کی شکایات لے کر آنے والے مریضوں کی قطاریں لگی ہیں۔ اگرچہ یہ بیماری جان لیوا ثابت نہیں ہو رہی، لیکن متاثرین کی بڑی تعداد نے پہلے سے دباؤ کا شکار طبی نظام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
علاقائی ماہرِ وبائیات ڈاکٹر ایلینا وینس نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "ہم ایک وسیع پیمانے پر آلودگی کے واقعے کا سامنا کر رہے ہیں۔ اعداد و شمار صرف بڑھ نہیں رہے، بلکہ ان کی رفتار تشویشناک ہے۔ ہم اس مشترکہ ذریعہِ خوراک کی تلاش میں دن رات کام کر رہے ہیں جو ان تمام مریضوں کی بیماری کی وجہ بنا۔”
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ طفیلیہ عام طور پر آلودہ سبزیوں اور پھلوں کے ذریعے پھیلتا ہے۔ حکام کی تحقیقات اس وقت مقامی ڈسٹری بیوشن مراکز سے گزرنے والی تازہ بیریز، درآمد شدہ پتوں والی سبزیوں اور جڑی بوٹیوں پر مرکوز ہیں۔ تاہم، اب تک کسی مخصوص برانڈ یا سپلائر کے خلاف باضابطہ ریکال جاری نہ ہونے کی وجہ سے عوام اب بھی تذبذب کا شکار ہیں کہ کون سی اشیاء محفوظ ہیں۔
بیماری کی تشخیص میں تاخیر اس مسئلے کا ایک اور اہم پہلو ہے۔ سائیکلوسپوریاسس کی علامات دیگر عام معدے کے مسائل سے ملتی جلتی ہیں، جس کی وجہ سے اکثر مریضوں کا غلط علاج کیا جاتا ہے۔ اکثر مریض ہفتوں تک علامات برداشت کرتے ہیں، اور جب تک اسٹول ٹیسٹ کے ذریعے اس طفیلیے کی تصدیق ہوتی ہے، تب تک ٹریسنگ کا وقت نکل چکا ہوتا ہے۔
مشی گن ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ اگر معدے کے مسائل طویل عرصے تک برقرار رہیں تو عام بیماری سمجھنے کے بجائے خاص طور پر اس طفیلیے کا ٹیسٹ کروائیں۔ محکمہ نے واضح کیا ہے کہ عام اینٹی بائیوٹک ادویات اس پر اثر نہیں کرتیں، اس کے لیے ‘ٹرائیمتھوپریم-سلفامیتھوکسازول’ کا کورس ضروری ہے۔
تحقیقات جاری ہیں، تاہم حکام کو خدشہ ہے کہ اعداد و شمار میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ جب تک بیماری کا اصل ذریعہ مارکیٹ سے نہیں ہٹایا جاتا، محکمہ صحت کا مشورہ ہے کہ تازہ سبزیوں اور پھلوں کو انتہائی احتیاط سے دھویا جائے، اگرچہ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر آلودگی کھیت کی سطح پر ہوئی ہو تو محض دھونا بھی کافی ثابت نہیں ہو سکتا۔
