بگ برڈ اور ایلمو اب صرف حروفِ تہجی تک محدود نہیں رہیں گے۔ ‘سیسمی ورکشاپ’ نے اپنے بنیادی نصاب میں موسمیاتی تبدیلی کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو اس برانڈ کے لیے ایک بڑی تبدیلی ہے جس نے پانچ دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ جذباتی نشوونما اور بنیادی خواندگی پر صرف کیا ہے۔
یہ اقدام محض قطبی ریچھوں یا پگھلتی برف کے بارے میں نہیں ہے۔ اس کا اصل مقصد پری اسکول کے بچوں کو ان خدشات اور اضطراب سے نمٹنے کا طریقہ سکھانا ہے جو شدید موسمی حالات کے اس دور میں پیدا ہو رہے ہیں۔
ورکشاپ کے ترجمان کا کہنا ہے، "ہم بچوں کو ڈرانا نہیں چاہتے۔ ہم انہیں وہ الفاظ دینا چاہتے ہیں جن سے وہ سمجھ سکیں کہ ان کی گلی میں سیلاب کیوں آتا ہے یا ہوا کا معیار اتنا خراب کیوں ہو جاتا ہے کہ انہیں باہر کھیلنے سے منع کیا جاتا ہے۔”
پروڈکشن ٹیم نے ایسے حصوں پر کام شروع کر دیا ہے جو جانے پہچانے کرداروں کے ذریعے موسمیاتی تصورات کی وضاحت کرتے ہیں۔ کوڑے کرکٹ سے جڑے کردار ‘آسکر دی گراؤچ’ کو اب کمپوسٹنگ اور کچرے کو کم کرنے کے عمل میں دکھایا جائے گا۔ یہ ایک عالمی مسئلے کو گھر کی سطح پر حل کرنے کی ایک عملی کوشش ہے۔
میڈیا تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تبدیلی وقت کی ضرورت ہے۔ چونکہ موسمیاتی اثرات اور ہیٹ ویوز اب روزمرہ کا حصہ بن چکے ہیں، اس لیے بچے اسکول جانے سے پہلے ہی ان ماحولیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ سیسمی سٹریٹ کا ہدف اس بے بسی کو ‘اختیار’ میں بدلنا ہے۔
اگرچہ کچھ ناقدین شو کے اس اقدام کو سیاسی قرار دیتے ہیں، لیکن پروڈیوسرز کا موقف ہے کہ شو کا اصل مشن بچوں کو ان کی دنیا سے متعارف کروانا ہے، اور آج کی دنیا کو سمجھے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔ اگر دنیا گرم ہو رہی ہے، تو شو کو اس کی وضاحت کرنی ہوگی، ورنہ یہ اس نسل کے لیے غیر متعلقہ ہو جائے گا جو اس گرمی کا سامنا کر رہی ہے۔
یہ نصابی تبدیلی بچوں کے میڈیا میں پائیداری کے بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ نکلوڈین اور ڈزنی جیسے ادارے بھی ماحولیاتی موضوعات کو شامل کرنے کے دباؤ میں ہیں، لیکن سیسمی سٹریٹ اس حوالے سے ایک اہم تجربہ گاہ بنی ہوئی ہے کہ بچوں کو پیچیدہ اور نظامی مسائل کیسے سمجھائے جائیں۔
اس اقدام کی کامیابی کا معیار بہت سادہ ہے: کیا ایک کٹھ پتلی کردار کسی تین سالہ بچے کی توجہ برقرار رکھتے ہوئے گرین ہاؤس گیسوں کا تصور سمجھا سکتا ہے؟ اگر وہ اس میں کامیاب ہو گئے، تو یہ شو جدید دنیا کا عکاس بنے گا—چاہے وہ دنیا 1969 کے مقابلے میں آج کہیں زیادہ تپتی ہوئی کیوں نہ ہو۔
