بنگلہ دیش کی ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں 13 سالہ لڑکی کو اپنے نوزائیدہ بیٹے کی تحویل سونپ دی ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے معاشرے میں غیر معمولی حیثیت رکھتا ہے جہاں کم عمری کی شادیوں کی قانونی ممانعت کے باوجود یہ عمل اب بھی جڑوں میں پیوست ہے۔
ڈھاکہ ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جس میں بچے کو سرکاری تحویل میں رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔ متاثرہ لڑکی — جس کی شناخت صیغہ راز میں رکھی گئی ہے — کی شادی 12 سال کی عمر میں کر دی گئی تھی۔ بنگلہ دیش میں شادی کی قانونی عمر 18 سال ہے، مگر دیہی علاقوں میں اس قانون کی خلاف ورزی معمول کا حصہ ہے۔
جسٹس نعیمہ حیدر اور جسٹس قاضی زینت حق پر مشتمل بینچ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ماں کا اپنے بچے کی پرورش کا بنیادی حق، ریاست کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات سے کہیں زیادہ مقدم ہے۔
درخواست گزار کے وکیل محمد اشرف علی نے کہا، "قانون ماں اور بچے کے رشتے کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ عدالت نے شادی کے حالات سے قطع نظر صرف شیر خوار بچے کے حقوق پر توجہ مرکوز رکھی۔”
یہ کیس بنگلہ دیش کے ‘چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ’ اور دیہی زندگی کی تلخ حقیقتوں کے درمیان جاری کشمکش کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومت نے 2041 تک کم عمری کی شادیوں کے خاتمے کا عزم کر رکھا ہے، لیکن سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ قانون کا نفاذ نہ ہونے کے برابر ہے۔ 13 سالہ ماں کے لیے یہ عدالتی فتح ایک وقتی ریلیف تو ہے، مگر وہ ایک ایسے معاشرے میں واپس جا رہی ہے جہاں اس کی شادی اور زچگی کو ایک سماجی معمول اور المیہ، دونوں نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔
عدالت نے مقامی سماجی بہبود کے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ماں اور بچے کی نگرانی کریں اور انہیں بنیادی خوراک اور سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں۔ یہ ایک ٹوٹے ہوئے نظام کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کا ایک نازک سا حل ہے۔
عدالتی حکم کے بعد اب یہ ماں اپنے بچے کے ساتھ واپس اپنے خاندان کے پاس جا سکے گی، تاہم اس قانونی جنگ نے اس وسیع تر سماجی مسئلے کو حل کرنے کے لیے بہت کم کام کیا ہے جس نے اسے اس مقام پر لا کھڑا کیا تھا۔
