کراچی: شہر میں بھتہ خوری کی وارداتوں اور دھمکیوں نے ایک بار پھر تاجروں کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ نامعلوم گروہوں کی جانب سے کاروباری افراد کو پیغامات، کالز اور دیگر ذرائع سے رقم کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جبکہ جواب نہ دینے پر فائرنگ کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
ایک رپورٹ شدہ واقعے میں ایک تاجر کو دھمکی آمیز پیغام موصول ہوا جس میں کہا گیا: “میرے پیغام کا جواب دو، ورنہ ہم فائرنگ کریں گے۔” یہ پیغام کراچی میں پرانے “بھتہ” نیٹ ورکس کی یاد تازہ کرتا ہے، جہاں خوف، نامعلوم کالز اور مسلح دھمکیاں کاروباری طبقے کو دبانے کے لیے استعمال کی جاتی تھیں۔
حالیہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دھمکیاں کسی ایک مارکیٹ یا ایک طریقے تک محدود نہیں رہیں۔ تاجروں کو ایس ایم ایس، واٹس ایپ کالز، غیر ملکی نمبروں، دھمکی آمیز پرچیوں، گولیوں کے پارسل اور دکانوں یا کاروباری مقامات کے باہر فائرنگ کے ذریعے ہراساں کیا جا رہا ہے۔ کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ انداز نیا نہیں، مگر اس کی واپسی تشویش ناک ضرور ہے۔
پولیس تحقیقات کے مطابق کچھ بھتہ کالز ایسے نمبروں سے کی گئیں جو ایران، نائجیریا اور فلپائن میں رجسٹرڈ تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متعدد واقعات کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم غیر ملکی نمبروں کے استعمال سے ملزمان تک پہنچنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود مقامی سہولت کاروں کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا۔
بھتہ خوری کا خوف صرف چھوٹے تاجروں تک محدود نہیں رہا۔ بلڈرز اور ڈیولپرز نے بھی دھمکیوں، بھتہ کالز اور فائرنگ کے واقعات میں اضافے کی شکایت کی ہے۔ تعمیراتی شعبے کے نمائندوں کے مطابق پانچ ماہ کے دوران کم از کم 10 ارکان نے باقاعدہ طور پر دھمکیوں کی شکایت درج کرائی، جبکہ کاروباری برادری نے خبردار کیا ہے کہ ایسی صورتحال سرمایہ کاری اور کاروباری اعتماد کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے کراچی میں بھتہ خوری کی دھمکیوں میں اضافے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت جرائم پیشہ عناصر کو شہریوں اور تاجروں کو خوفزدہ کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ ان کے مطابق بعض تاجروں کو بھتہ دینے سے انکار پر دھمکیاں دی گئیں۔
کراچی پولیس نے کچھ مقدمات میں پیش رفت کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ حکام کے مطابق سال کے دوران بھتہ خوری کے 75 مصدقہ کیسز میں سے 71 کیسز ٹریس کیے گئے، 91 ملزمان گرفتار کیے گئے جبکہ چھ ملزمان مقابلوں میں مارے گئے۔ اس کے باوجود تاجروں کا کہنا ہے کہ خوف ابھی ختم نہیں ہوا، کیونکہ ایک دھمکی بھی پورے بازار کو خاموش کرانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔
کراچی میں بھتہ خوری کی یہ نئی لہر ماضی کے ان دنوں کی یاد دلاتی ہے جب بازاروں میں “پرچیاں” آنا معمول سمجھا جاتا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کے بعد یہ سلسلہ کافی حد تک کم ہوا تھا، مگر حالیہ واقعات بتاتے ہیں کہ جرائم پیشہ گروہ پرانے خوف کو نئے ڈیجیٹل طریقوں کے ساتھ دوبارہ استعمال کر رہے ہیں۔
تاجروں کا مطالبہ واضح ہے: ملزمان کی گرفتاری، کاروباری مراکز کا تحفظ اور فوری کارروائی۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، کراچی کا کاروباری طبقہ اسی بے یقینی میں رہے گا کہ اگلا پیغام صرف دھمکی ہوگا یا کسی بڑے واقعے کا آغاز۔
