کراچی پولیس کی حراست میں وفات پانے والے نوجوان میر رضا کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ کراچی کی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے ابتدائی طبی رپورٹ پر باضابطہ طور پر اعتراضات اٹھا دیے ہیں، جس سے اس معاملے کی شفافیت مشکوک ہو گئی ہے۔
یہ معاملہ گزشتہ کچھ روز سے شہر میں شدید غم و غصے کا باعث بنا ہوا ہے۔ میر رضا کے لواحقین کا شروع دن سے موقف ہے کہ ان کی موت پولیس تشدد کا نتیجہ ہے۔ تاہم، ابتدائی طبی رپورٹ میں اسے قدرتی موت قرار دیا گیا تھا، جس کی اب پولیس سرجن نے خود تردید کر دی ہے۔
ڈاکٹر سمیہ سید نے پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے نشاندہی کی ہے کہ رپورٹ میں ان جسمانی نشانات کو نظر انداز کیا گیا جو مبینہ طور پر میر رضا کے جسم پر موجود تھے۔ ان اعتراضات کے بعد ابتدائی رپورٹ کی ساکھ ختم ہو چکی ہے اور اب ایک نئے اور جامع طبی معائنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔
مقتول کے خاندان کے لیے یہ ایک اہم موڑ ہے۔ ان کے مطابق، یہ پہلی بار ہے کہ کسی سرکاری عہدیدار نے ان کے موقف کی تائید کی ہے۔ دوسری جانب، پولیس حکام اب تک خاموش ہیں اور صرف روایتی بیانات پر اکتفا کر رہے ہیں کہ وہ "تحقیقات میں تعاون” کر رہے ہیں۔
اس صورتحال کے بعد قانونی پیچیدگیاں بڑھ گئی ہیں۔ اگر ابتدائی رپورٹ کو دانستہ طور پر غلط ثابت کیا جاتا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ نہ صرف ملوث اہلکاروں بلکہ رپورٹ تیار کرنے والی میڈیکل ٹیم کے خلاف بھی کارروائی کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔ تفتیشی اداروں پر اب دباؤ ہے کہ وہ ایک نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔
کراچی میں دورانِ حراست اموات کوئی نیا واقعہ نہیں، لیکن اس کیس نے انسانی حقوق کی تنظیموں کو ایک بار پھر متحرک کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس تھانوں میں احتساب کا فقدان اب رپورٹوں کی حد تک پہنچ چکا ہے۔
اب تمام تر توجہ نئے میڈیکل بورڈ کے فیصلے پر مرکوز ہے۔ اگر نئی رپورٹ ابتدائی نتائج کی نفی کرتی ہے، تو یہ کیس محض ایک انکوائری سے نکل کر قتل کی باقاعدہ تفتیش میں بدل جائے گا۔ فی الحال، پولیس سرجن کے اعتراضات نے اس بیانیے کو مسترد کر دیا ہے جس میں میر رضا کی موت کو "قدرتی” قرار دیا گیا تھا۔
