مری — پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے مری میں لینڈ سلائیڈنگ کے حالیہ واقعے کے بعد سیاحتی مقامات کی جانب جانے والی تمام مرکزی شاہراہوں کی چوبیس گھنٹے نگرانی کا حکم دے دیا ہے۔
یہ ہدایات لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہونے اور شہریوں کے پھنس جانے کے بعد جاری کی گئیں۔ وزیر اعلیٰ نے ضلعی انتظامیہ اور پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کو ہدایت کی ہے کہ حساس مقامات پر مسلسل نظر رکھی جائے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مشینری کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔
اس اقدام کا مقصد 2022 کے سانحہ مری جیسے واقعات کی تکرار کو روکنا ہے۔ جنوری 2022 میں ہونے والی شدید برف باری کے دوران ہزاروں گاڑیاں پھنس گئی تھیں، جس کے نتیجے میں 22 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ اس واقعے نے انتظامیہ کے ٹریفک مینجمنٹ اور ابتدائی انتباہی نظام کی خامیوں کو بے نقاب کر دیا تھا۔
وزیر اعلیٰ نے حکام کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ "انسانی جانوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔” انہوں نے کمشنر راولپنڈی کو حکم دیا کہ حساس پوائنٹس پر ہیوی مشینری ہر وقت تیار رکھی جائے تاکہ راستے بند ہونے کی صورت میں ٹریفک کا نظام درہم برہم نہ ہو۔
اگرچہ مقامی انتظامیہ نے دوپہر تک ملبہ ہٹا کر سڑکیں بحال کر دی تھیں، لیکن یہ واقعہ علاقے کے کمزور انفراسٹرکچر اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔ اب انتظامیہ نے خاص طور پر بارش یا برف باری کے دوران مری میں داخل ہونے والی گاڑیوں کے لیے سخت ضوابط نافذ کر دیے ہیں تاکہ پہاڑی راستوں پر رش کو کنٹرول کیا جا سکے۔
پی ڈی ایم اے نے گلیات کے علاقے کے لیے نیا الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پہاڑی تودے گرنے کا خدشہ تاحال برقرار ہے۔ سیاحتی سیزن عروج پر ہونے کے باعث انتظامیہ کو معاشی سرگرمیوں اور حفاظتی اقدامات کے درمیان توازن برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے ٹریفک پولیس، ریسکیو سروسز اور ہائی وے ڈیپارٹمنٹ کے مابین رابطے کے لیے ایک کنٹرول روم قائم کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ نے ہفتے کے اختتام تک مشینری کی تعیناتی اور سیکیورٹی اقدامات پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
