کھٹمنڈو، 28 اپریل — ماؤنٹ ایورسٹ کے جنوبی راستے پر واقع خُمبو آئس فال، جو اس مہم کا سب سے خطرناک اور غیر یقینی حصہ سمجھا جاتا ہے، تقریباً دو ہفتے کی رکاوٹ کے بعد دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ ایک بڑے اور غیر مستحکم برفانی تودے نے اوپر کا راستہ بند کر رکھا تھا، جس کے باعث کوہ پیماؤں اور راستہ بنانے والی شیرپا ٹیموں کی پیش قدمی رک گئی تھی۔ منگل کو راستہ کھلنے کے بعد اب مہمات دوبارہ اوپر کی جانب بڑھ سکیں گی، جبکہ منتظمین کو امید ہے کہ موسمِ بہار کی چڑھائی کا شیڈول بھی کسی حد تک بحال ہو جائے گا۔
اس رکاوٹ نے ایورسٹ بیس کیمپ اور کیمپ ون کے درمیان آمدورفت کو عملاً معطل کر دیا تھا۔ نتیجتاً سیکڑوں کوہ پیما اور نیپالی گائیڈز بیس کیمپ میں انتظار پر مجبور رہے، کیونکہ حکام اور ماہر ٹیمیں برفانی خطرے کا جائزہ لے رہی تھیں۔ اس دوران نیپال کے محکمہ سیاحت کی جانب سے اس سیزن کے لیے 400 سے زیادہ غیر ملکی کوہ پیماؤں کو اجازت نامے جاری کیے جا چکے تھے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رواں سیزن بھی غیر معمولی حد تک مصروف رہنے والا ہے۔
خُمبو آئس فال کو ویسے بھی ایورسٹ کے خطرناک ترین حصوں میں شمار کیا جاتا ہے، مگر اس بار مسئلہ ایک لٹکتی ہوئی برفانی دیوار یا سیرک تھا، جو معمول کے راستے کے اوپر خطرناک انداز میں موجود تھا۔ نیپالی حکام پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ ایسی قدرتی رکاوٹ کو انسانی مداخلت سے فوراً ختم کرنا ممکن نہیں، اس لیے صرف نگرانی، انتظار اور درست وقت کا انتخاب ہی واحد راستہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ "آئس فال ڈاکٹرز” کہلانے والی ماہر شیرپا ٹیم، جو ہر سال رسیاں اور سیڑھیاں نصب کرتی ہے، کئی دن تک آگے نہ بڑھ سکی۔
منگل کو صورتحال بدلی۔ نیپال کی ایکسپیڈیشن آپریٹرز ایسوسی ایشن سے وابستہ حکام نے بتایا کہ راستہ دوبارہ قابلِ استعمال ہو گیا ہے اور آئس فال ڈاکٹرز شام تک کیمپ ٹو کی جانب بڑھ رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق راستے کی نگرانی اور رسد کی فراہمی میں ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کا بھی استعمال کیا گیا، جس سے مہم کو دوبارہ فعال بنانے میں مدد ملی۔ یہ تفصیل خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ ایورسٹ کی روایتی مہمات میں اب جدید ٹیکنالوجی بھی آہستہ آہستہ اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
راستہ کھلنے کی اہمیت صرف ایورسٹ تک محدود نہیں۔ لوٹسے اور نوپتسے کی مہمات کے لیے بھی یہی ابتدائی راستہ استعمال ہوتا ہے، اس لیے خُمبو آئس فال میں تاخیر پورے سیزن کو متاثر کرتی ہے۔ مہماتی منتظمین کو خدشہ تھا کہ اگر یہ رکاوٹ مزید برقرار رہتی تو مئی کے ممکنہ سمٹ ونڈو میں غیر معمولی دباؤ پیدا ہو جاتا، اور اونچائی پر بھیڑ بڑھنے سے حادثات کا خطرہ زیادہ ہو سکتا تھا۔ ایورسٹ پر ماضی میں ٹریفک جام جیسی صورتحال کئی بار جان لیوا ثابت ہو چکی ہے۔
اس احتیاط کی ایک تاریخی وجہ بھی ہے۔ 2014 میں اسی خُمبو آئس فال کے علاقے میں آنے والے ایک برفانی تودے نے 16 شیرپا گائیڈز کی جان لے لی تھی، جو ایورسٹ کی تاریخ کے بدترین سانحات میں شمار ہوتا ہے۔ یہی پس منظر اس بار کے فیصلوں پر بھی غالب رہا، اور حکام و گائیڈز نے جلد بازی کے بجائے محتاط انتظار کو ترجیح دی۔
اب جبکہ راستہ دوبارہ کھل گیا ہے، کوہ پیما اپنی ایکلیمٹائزیشن روٹیشنز دوبارہ شروع کر سکیں گے، اوپری کیمپوں تک رسائی بحال ہو گی، اور مہمات کا شیڈول ایک بار پھر ترتیب پکڑ سکے گا۔ لیکن ایورسٹ پر راستہ کھل جانا آسانی کی ضمانت نہیں ہوتا۔ اس پہاڑ پر ہر قدم کے ساتھ خطرہ موجود رہتا ہے — اور اب اصل آزمائش پھر سے شروع ہو رہی ہے۔
