پاکستان میں پٹرولیم قیمتوں کے معاوضے کے نظام پر دباؤ بڑھ گیا ہے، کیونکہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا بعض آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پرانے اسٹاک پر پرائس ڈفرینشل کلیمز غیر معمولی یا بے ضابطہ انداز میں جمع کرائے۔ حالیہ رپورٹنگ کے مطابق معاملہ صرف کاغذی دعووں تک محدود نہیں بلکہ اس میں ذخیرہ اندوزی، اسٹاک رپورٹنگ، اور معاوضہ لینے کے اہل حجم سے متعلق سوالات بھی شامل ہیں۔
یہ خبر اس لیے اہم ہے کیونکہ اس میں شامل رقم بہت بڑی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق اوگرا پہلے ہی 34 آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو تقریباً 38 ارب روپے کے پی ڈی سی ادا کر چکا ہے، جبکہ دوسری رپورٹوں کے مطابق مجموعی غیر ادا شدہ دعووں کا بوجھ تقریباً 107 ارب روپے تک پہنچ چکا تھا۔ اس سے واضح ہے کہ یہ صرف انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑا مالیاتی معاملہ بھی ہے۔
اسی بڑے مالی حجم نے ایف آئی اے کی دلچسپی کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ متعدد رپورٹوں کے مطابق اوگرا نے 16 اپریل کی ایک خط و کتابت میں تقریباً 128 ارب روپے کے ایک وسیع تر نظام کی منظوری مانگی تھی تاکہ پی ڈی سی کلیمز نمٹائے جا سکیں، مگر ساتھ ہی یہ شرط بھی رکھی گئی کہ جو کمپنیاں ذخیرہ اندوزی میں ملوث پائی جائیں وہ اس ادائیگی کی اہل نہیں ہوں گی۔ مطلب صاف ہے: حکومت ایک طرف قیمتوں کا سہارا دینے والا نظام برقرار رکھنا چاہتی ہے، اور دوسری طرف اسے اس نظام کے غلط استعمال کا بھی خدشہ ہے۔
اوگرا نے اس کے بعد قواعد سخت کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ دی نیشن کی رپورٹ کے مطابق ریگولیٹر ایک آزاد آڈیٹر لانے جا رہا ہے، کیونکہ حکام نے کمیٹی بریفنگ میں کہا کہ کچھ کمپنیوں نے غلط دعوے جمع کرائے تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تنازع اب صرف رقوم کی تاخیر تک محدود نہیں رہا بلکہ اصل سوال یہ بن گیا ہے کہ کیا پورا معاوضہ نظام ہی ہیر پھیر کے لیے کھلا ہوا تھا۔
