لندن — مشرقِ وسطیٰ میں جنگی سرگرمیاں تھمنے کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ امریکہ اور ایران کی جانب سے ہفتے کے آخر میں ایک دوسرے پر حملے روکنے کے بعد سفارتی حل کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، جس سے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں بحری جہازوں کی آمد و رفت بحال ہونے کا امکان ہے۔ پیر کے روز برینٹ کروڈ کے سودے 5.70 ڈالر یا 5.9 فیصد کمی کے ساتھ 91.08 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے، جبکہ تجارتی سیشن کے دوران قیمت ایک وقت کے لیے 90 ڈالر کی نفسیاتی حد سے بھی نیچے چلی گئی تھی۔ اسی طرح، امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت بھی 4.80 ڈالر یا 5.4 فیصد کمی کے ساتھ 84.51 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔ اس سے قبل، کشیدگی اور سعودی عرب کی جانب سے سپلائی متاثر ہونے کے باعث برینٹ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔
امریکی میڈیا کے مطابق، اقوامِ متحدہ میں نامزد امریکی سفیر مائیک والٹز نے تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے عارضی طور پر حملے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم، توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ عارضی جنگ بندی پر فوری ردعمل تو دے رہی ہے، لیکن سپلائی کی بحالی ابھی تک مکمل نہیں ہوئی۔ شپنگ ڈیٹا کے مطابق اب بھی روزانہ 10 سے کم بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہیں کیونکہ کمپنیوں کو سیکیورٹی کے حوالے سے تاحال خدشات ہیں۔ ‘سوشیٹے جنرل’ کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بحیرہ احمر (Red Sea) کا بحران حل نہ ہونے کی صورت میں ہر گزرتے مہینے کے ساتھ تیل کی قیمت میں 10 ڈالر کا اضافہ برقرار رہ سکتا ہے، جبکہ یوکرین کی جانب سے روسی ریفائنریوں پر حملے بھی عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو دوبارہ اوپر لے جانے اور مہنگائی بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں۔
