سانتا کلارا — کمپیوٹر چپس اور سرورز بنانے والی دنیا کی معروف کمپنی نے بدھ کے روز مصنوعی ذہانت کے شعبے کی صفِ اول کی اسٹارٹ اپ کمپنی ‘اینتھروپک’ کے ساتھ اربوں ڈالرز کے ایک بڑے تجارتی اور اسٹریٹجک معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت وہ اینتھروپک کو کئی ارب ڈالرز مالیت کے مصنوعی ذہانت کے سرورز فروخت کرے گی اور اس کے ساتھ ہی مقبول مصنوعہ ذہانت ماڈل ‘کلاڈ’ بنانے والی اس کمپنی میں 5 ارب ڈالرز تک کی سرمایہ کاری بھی کرے گی۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اسے ایک باہمی فائدہ مند معاہدہ کہا جا رہا ہے، جہاں چپس بنانے والی کمپنیاں خود اپنے بڑے گاہکوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں تاکہ مارکیٹ پر حریف کمپنی کی اجارہ داری کو ختم کیا جا سکے۔ اس سے قبل انہوں نے اکتوبر میں اوپن اے آئی کے ساتھ بھی اسی نوعیت کا معاہدہ کیا تھا۔ اس بڑی ڈیل کی خبر آتے ہی کیلیفورنیا میں قائم کمپنی کے شیئرز میں 0.5 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جبکہ کمپنی کے حصص کی قیمت رواں سال پہلے ہی دوگنی ہو چکی ہے۔
معاہدے کی تفصیلات کے مطابق، اینتھروپک سال 2027 کی پہلی چھماہی سے جدید ترین ‘انسٹرکٹ ایم آئی 450’ ماڈل کے 2 گیگا واٹ تک کے چپس اور سرورز خریدنا شروع کرے گی۔ کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ 1 گیگا واٹ کمپیوٹنگ پاور، جو تقریباً 7 لاکھ 50 ہزار امریکی گھروں کو روشن کرنے کے برابر بجلی استعمال کرتی ہے، کو تیار کرنے پر کئی ارب ڈالرز کی لاگت آتی ہے۔ اینتھروپک کے شریک بانی اور کمپیوٹنگ شعبے کے سربراہ ٹام براؤن نے بتایا کہ ان کے صارفین کی طرف سے ‘کلاڈ کوڈ’ جیسے کارپوریٹ ٹولز کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اور کلاڈ کو عالمی دوڑ میں سب سے آگے رکھنے کے لیے اتنے بڑے پیمانے پر ڈیٹا سرورز کا حصول ناگزیر ہو چکا تھا۔ واضح رہے کہ اینتھروپک نے حال ہی میں میمفس میں واقع ڈیٹا سینٹر کو بھی کرائے پر حاصل کیا ہے اور وہ میٹا کے ساتھ بھی 10 ارب ڈالرز کے ایک اور معاہدے کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔
