گلو، یوگنڈا — چوبیس برس قبل، یوگنڈا کا یہ شمالی شہر ایبولا کے ایک ہولناک مرکز میں تبدیل ہو گیا تھا۔ اس وبا نے ڈاکٹر میتھیو لکویہ جیسے درجنوں قیمتی جانیں نگل لیں اور پورے معاشرے کو خوف کے سائے میں جکڑ دیا۔ لیکن آج، یہی شہر وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر ایک مثال بن چکا ہے۔
گزشتہ برس جب ایبولا نے دوبارہ خطے میں دستک دی، تو ردعمل 2000 والی افراتفری جیسا نہیں تھا۔ اس بار ہر قدم ایک ایسے نظام کی عکاسی کر رہا تھا جس نے ماضی کے تلخ ترین اسباق سے سیکھا ہے۔
تبدیلی کا آغاز کلینکوں سے ہوا۔ مقامی ہیلتھ ورکرز — جن میں سے کئی 2000 کے بحران کے عینی شاہد تھے — نے ٹیسٹنگ کے مراکز کو مرکزی ہسپتال سے نکال کر گلی محلوں تک پہنچا دیا۔ اب ہر مریض کو ایک ہی بڑے ہسپتال کی طرف بھاگنے کی ضرورت نہیں تھی، بلکہ مقامی مراکز نے چند گھنٹوں کے اندر علامات کی نشاندہی شروع کر دی۔
ڈاکٹر سیموئیل اوڈوچ، جو 2000 کے بحران کے دوران نرس کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، کہتے ہیں، "ہم نے حکومت کی طرف سے ٹرک آنے کا انتظار نہیں کیا۔ ہم علامات جانتے تھے، ہم خوف سے واقف تھے۔ سائرن بجنے سے پہلے ہی ہم نے خود رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں۔”
اعداد و شمار اس تبدیلی کی تصدیق کرتے ہیں۔ سن 2000 میں اس خطے میں شرح اموات تقریباً 50 فیصد تھی، لیکن حالیہ انسدادِ وبا کی کوششوں میں یہ شرح نمایاں طور پر کم رہی۔ اس کی بڑی وجہ فوری آئسولیشن اور مقامی رضاکاروں کا وہ نیٹ ورک ہے جس نے رابطے میں آنے والے ہر شخص کو ٹریس کیا۔
اس کامیابی کا سب سے اہم پہلو ‘بھروسہ’ تھا۔ دو دہائیاں قبل، افواہوں اور شک و شبہات کی وجہ سے لوگ بیماروں کو چھپاتے تھے، جس سے وبا مزید پھیلی۔ اس بار، مقامی قیادت نے شروع دن سے ہی قبائلی عمائدین اور مذہبی رہنماؤں کو اعتماد میں لیا۔ انہوں نے ان رہنماؤں کو فرنٹ لائن ہیلتھ کمیونیکیٹرز بنا دیا، جس نے مارکیٹوں میں پھیلنے والی غلط معلومات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔
بین الاقوامی برادری اکثر ہیلتھ پالیسی کے لیے کمپالا کی طرف دیکھتی ہے، لیکن گلو کی کامیابی بتاتی ہے کہ اصل مہارت نچلی سطح پر موجود ہے۔ ماضی کے صدمے کو حال کی تربیت میں ڈھال کر اس شہر نے ایک ایسی حفاظتی دیوار بنا لی ہے جو وائرس کو دور رکھتی ہے۔
گلو کے ہسپتال کے وارڈز میں 2000 کے واقعات کے سائے آج بھی موجود ہیں، لیکن اب یہ شہر خوف کے عالم میں اگلی لہر کا انتظار نہیں کرتا۔ اب وہ ایک مکمل حکمت عملی کے ساتھ تیار ہے۔
