آل پاکستان آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن نے وفاقی حکومت کو 72 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل پر عائد نئے ودہولڈنگ ٹیکس واپس لیے جائیں، بصورت دیگر ملک بھر میں ایندھن کی سپلائی معطل کر دی جائے گی۔
یہ تنازعہ ٹیکس کے نئے ڈھانچے پر کھڑا ہوا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کا موقف ہے کہ موجودہ ٹیکسوں کی شرح سے ان کا کاروبار چلانا ناممکن ہو چکا ہے۔ اگر حکومت نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے مذاکرات نہ کیے تو ملک بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی ترسیل کا پہیہ جام ہو جائے گا۔
عام شہریوں کے لیے یہ صورتحال تشویشناک ہے۔ ملک گیر ہڑتال کی صورت میں بڑے شہروں کے پیٹرول پمپس 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر خالی ہو سکتے ہیں۔ ماضی میں بھی ایسی ہڑتالوں کے باعث پیٹرول پمپس پر لمبی قطاریں، افراتفری اور ذخیرہ اندوزی جیسے مسائل پیدا ہوئے ہیں جنہیں معمول پر لانے میں کئی دن لگتے ہیں۔
ایسوسی ایشن کے ترجمان نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ "ہم مراعات نہیں مانگ رہے، ہم ایسا نظام چاہتے ہیں جو ہمارے کاروبار کو ختم نہ کرے۔” ان کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی مرمت اور ایندھن کے بڑھتے اخراجات کے ساتھ موجودہ ٹیکسوں کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہے۔
وزارتِ توانائی اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ ملکی معیشت پہلے ہی مہنگائی کی لپیٹ میں ہے، ایسے میں ایندھن کی سپلائی میں تعطل سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ خوراک اور ادویات کی نقل و حمل کا انحصار بھی اسی لاجسٹک نیٹ ورک پر ہے جسے کنٹرول کرتی ہے۔
حکومتی سطح پر تاحال کوئی باقاعدہ ردعمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی ایسوسی ایشن کے وفد کو مذاکرات کی دعوت دی گئی ہے۔ تاہم، پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کے مطابق حکومتی سطح پر سپلائی چین کے بحران سے بچنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔
جیسے جیسے 72 گھنٹے کا وقت قریب آ رہا ہے، حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ ٹیکسوں میں نرمی کرے گی یا ایک ایسے بحران کا سامنا کرے گی جو ملکی معیشت کے ہر شعبے کو متاثر کر سکتا ہے۔ فی الحال پیٹرول پمپس کھلے ہیں، لیکن ایندھن کی ممکنہ قلت کے خوف نے شہریوں کو اپنی نقل و حرکت محدود کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
