بیجنگ میں منعقدہ حالیہ روبوٹ گیمز میں ہیومنائیڈ (انسان نما) روبوٹس نے اپنی کارکردگی سے ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ ایونٹ کے دوران کئی پروٹوٹائپ ماڈلز نے رفتار اور پیچیدہ راستوں پر چلنے کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ مشینیں اب تجربہ گاہوں سے نکل کر عملی کام کے لیے تیار ہو رہی ہیں۔
بیجنگ اکنامک اینڈ ٹیکنالوجیکل ڈیولپمنٹ ایریا میں ہونے والے اس مقابلے کا مرکز محض دکھاوا نہیں بلکہ عملی افادیت تھی۔ ماضی میں ہیومنائیڈ روبوٹس توازن برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار رہتے تھے، مگر اس بار مشینوں نے نہ صرف غیر ہموار راستوں پر دوڑ لگائی بلکہ رکاوٹوں کو بھی تیزی سے عبور کیا۔ ایک مقامی اسٹارٹ اپ کے تیار کردہ روبوٹ نے 100 میٹر کا فاصلہ 20 سیکنڈ سے کم وقت میں طے کر کے سب کو چونکا دیا۔
صنعت کے ماہرین کے لیے یہ پیش رفت ایک واضح اشارہ ہے۔ اب سرمایہ کار کھلونوں میں نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر کام کرنے والے ‘لیبر’ (مزدور) روبوٹس میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ نمائش میں پیش کیے گئے روبوٹس میں جدید ایکچیوٹرز اور ایسے اے آئی ماڈلز نصب تھے جو چند ملی سیکنڈز میں ماحول کو سمجھ کر خود کو ڈھال لیتے ہیں۔ یہ صلاحیت انہیں کسی انسانی مدد کے بغیر کام جاری رکھنے کے قابل بناتی ہے۔
آٹومیشن کنسلٹنٹ لی وی نے ایونٹ کے دوران کہا کہ "ہارڈویئر اب سافٹ ویئر کی رفتار کے برابر آ چکا ہے۔ ہم نے توازن اور بصارت کا مسئلہ حل کر لیا ہے، اب اصل چیلنج بیٹری کی زندگی ہے جو فی الحال شدید کام کے دوران صرف 90 منٹ تک محدود ہے۔”
مقابلے کے دوران کچھ مشینیں ہموار سطح سے گھاس پر منتقل ہوتے ہوئے لڑکھڑاتی بھی نظر آئیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان جیسی حرکت اب بھی انجینئرنگ کا ایک مشکل ترین پہلو ہے۔ ججوں نے البتہ رفتار کے بجائے تسلسل اور درستگی کو اہمیت دی اور ان ماڈلز کو فاتح قرار دیا جو پیچیدہ کاموں کو بار بار ایک ہی مہارت کے ساتھ انجام دے سکتے تھے۔
ایونٹ کا اختتام اس پیغام پر ہوا کہ چین کی روبوٹکس انڈسٹری اب بڑے پیمانے پر پیداوار کی طرف بڑھ رہی ہے۔ کئی کمپنیوں نے 2026 کے اوائل تک ان روبوٹس کو لاجسٹک مراکز میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ کیا یہ مشینیں انسانی کارکنوں کی جگہ لے سکیں گی، بلکہ یہ ہے کہ یہ تبدیلی کتنی تیزی سے رونما ہوگی۔
فی الحال ان روبوٹس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ دوڑ سکتے ہیں، چڑھ سکتے ہیں اور حالات کے مطابق خود کو بدل سکتے ہیں۔ ان کی یہ دوڑ اب رکنے والی نہیں ہے۔
