گڈانی کے ساحل پر آٹھ سال سے خاموش کھڑی کرینیں دوبارہ حرکت میں آ گئی ہیں۔ طویل تعطل کے بعد، جہاز توڑنے والی صنعت کا پہیہ پھر گھومنے لگا ہے، جس سے مقامی معیشت میں نئی روح پھونکنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
آٹھ برس قبل جب یہ یارڈز بند ہوئے، تو ہزاروں مزدور بیروزگار ہو گئے اور گڈانی کی مقامی معیشت زمین بوس ہو گئی۔ حکومتی پالیسیوں میں ابہام، سخت ضوابط اور ماحولیاتی تحفظ کے معیارات پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث یہ صنعت طویل عرصے تک بحران کا شکار رہی۔ اب پہلے جہاز کی آمد کے ساتھ ہی اس شعبے میں سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو چکی ہیں۔
مقامی مزدور یونینوں اور کاروباری حلقوں نے اس بحالی کے لیے برسوں جدوجہد کی۔ یارڈز کی بندش نے گڈانی کو ایک ویران بستی میں تبدیل کر دیا تھا، جس کے باعث ہنرمند مزدوروں کی ایک بڑی تعداد روزگار کی تلاش میں بڑے شہروں کی طرف ہجرت کر گئی۔ اب جبکہ پہلا جہاز ساحل پر لنگر انداز ہو چکا ہے، مقامی آبادی میں معاشی بہتری کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے۔
ایک مقامی ٹھیکیدار نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "ان گیٹس کے بند رہنے سے ہم نے تکنیکی مہارت رکھنے والی ایک پوری نسل کھو دی۔ اس صنعت کا دوبارہ چلنا صرف لوہے اور سٹیل کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ اس قصبے کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش ہے۔”
تاہم، اس صنعت کو اب بھی پرانے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ماضی میں گڈانی کو ماحولیاتی آلودگی اور مزدوروں کے لیے غیر محفوظ حالات کی وجہ سے عالمی سطح پر تنقید کا سامنا رہا ہے۔ اس بار حکام نے ماحولیاتی تحفظ کے اداروں کے ذریعے کڑی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے۔ آپریٹرز کو سخت حفاظتی پروٹوکولز کا پابند بنایا گیا ہے تاکہ بین الاقوامی شپنگ لائنز کے معیارات پر پورا اترا جا سکے۔
معاشی اعتبار سے یہ پیش رفت پاکستان کے لیے اہم ہے۔ مقامی سطح پر جہازوں کی ری سائیکلنگ سے اسٹیل ملز کو خام مال کی فراہمی میں مدد ملے گی، جس سے مہنگی درآمدات پر انحصار کم ہوگا۔ حکومتی اندازوں کے مطابق، اگر یہ صنعت تسلسل کے ساتھ چلتی رہی تو کسٹمز ڈیوٹی اور صنعتی سرگرمیوں سے قومی خزانے کو خاطر خواہ فائدہ پہنچے گا۔
کیا یہ بحالی مستقل بنیادوں پر قائم رہ سکے گی؟ اس کا انحصار عالمی شپنگ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ اور گڈانی کی مسابقت پر ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش کی شپ بریکنگ انڈسٹری نے جدید ٹیکنالوجی اپنا کر اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہے، جس کا مقابلہ کرنا پاکستان کے لیے بڑا چیلنج ہوگا۔
فی الحال، گڈانی کے ساحل سے اٹھتا ہوا دھواں ان ہزاروں مزدوروں کے لیے امید کی کرن ہے جو گزشتہ آٹھ سال سے اپنے روزگار کی بحالی کے منتظر تھے۔ صنعت تو بحال ہو گئی، لیکن اب اسے اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے غلطیوں کی گنجائش ختم کرنا ہوگی۔
