وزیراعظم شہباز شریف نے ایران اور خطے کے دیگر اسٹیک ہولڈرز کو خبردار کیا ہے کہ وہ ’مشکل سے حاصل کردہ امن‘ کو داؤ پر نہ لگائیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرحد پار فوجی کارروائیوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔
وزیراعظم کا پیغام واضح ہے: مزید فوجی کارروائیوں سے گریز کیا جائے کیونکہ یہ کسی بھی وقت ایک وسیع تر علاقائی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال انتہائی حساس ہے۔ خطے میں کسی بھی قسم کی طویل غیر یقینی صورتحال نہ صرف پاکستان کی اپنی کمزور معاشی بحالی کو پٹری سے اتار سکتی ہے، بلکہ تہران اور ریاض کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی سفارتی کوششوں کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی بریفنگ کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ "امن کے لیے دی گئی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جا سکتا۔” انہوں نے زور دیا کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی ماحول اس قدر غیر مستحکم ہے کہ مزید غلط فہمیوں کی گنجائش باقی نہیں رہی۔
یہ انتباہ ایران اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان حالیہ جوابی حملوں کے بعد سامنے آیا ہے، جس نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگرچہ پاکستان نے ‘عدم مداخلت’ کی پالیسی اپنا رکھی ہے، تاہم دفترِ خارجہ بارہا یہ واضح کر چکا ہے کہ ملک کسی بھی علاقائی جنگ کے معاشی اور سکیورٹی اثرات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
حکومت کا ہدف واضح ہے: تنازع کو تجارتی راستوں یا ملکی سکیورٹی تک پھیلنے سے روکنا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ وزیراعظم کا یہ بیان مغربی اتحادیوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش ہے کہ پاکستان، اپنی اندرونی سیاسی اور معاشی مشکلات کے باوجود، خطے میں کشیدگی کم کرنے کا خواہاں ہے۔
دفترِ خارجہ اب پسِ پردہ رابطوں کے ذریعے یہ یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ علاقائی کھلاڑی کشیدگی برقرار رکھنے کی قیمت کو سمجھیں۔
تہران کی جانب سے اس اپیل پر کیا ردعمل آتا ہے، یہ دیکھنا باقی ہے، تاہم وزیراعظم نے اپنا مؤقف واضح کر دیا ہے: خطے کو مزید محاذ آرائی کی نہیں، بلکہ حالات کو ٹھنڈا کرنے کی ضرورت ہے۔
