واشنگٹن، 12 جون 2026 — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک اہم معاہدہ قریب ہے، جبکہ انہوں نے صرف چند گھنٹے پہلے ہی اس ملک کے خلاف نئے فوجی حملوں کی دھمکیاں واپس لے لی تھیں۔ تازہ ترین پیش رفت نے جاری ایران بحران میں ایک اور نیا موڑ پیدا کر دیا ہے، جبکہ سفارتی مذاکرات اور علاقائی کشیدگی ایک ساتھ جاری ہیں۔
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایرانی اہداف پر منصوبہ بند امریکی حملے منسوخ کر دیے گئے ہیں، جس کی وجہ انہوں نے تہران کے ساتھ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت کو قرار دیا۔ صدر کے مطابق، بات چیت ایران کی اعلیٰ ترین قیادت تک پہنچ چکی ہے اور ایک وسیع تر معاہدے کے مسودے کا خاکہ تقریباً مکمل ہونے کے قریب ہے۔
تاہم ایرانی حکام نے فوری طور پر ٹرمپ کے بیانات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ ابھی تک کسی حتمی معاہدے کی منظوری نہیں دی گئی اور مذاکرات کا عمل بدستور جاری ہے۔ مذاکرات سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ کئی اہم معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے، لیکن کسی باضابطہ معاہدے پر دستخط سے پہلے اب بھی بڑی رکاوٹیں موجود ہیں۔
اطلاعات کے مطابق مجوزہ انتظام میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے اقدامات، جوہری مذاکرات کی تجدید، اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف تدابیر شامل ہیں۔ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر چند دنوں میں دستخط ہو سکتے ہیں، ممکنہ طور پر یورپ میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران۔
کشیدگی میں کمی کے اشاروں پر مالیاتی منڈیوں نے مثبت ردعمل ظاہر کیا۔ عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی آئی کیونکہ سرمایہ کاروں نے ٹرمپ کے حملے منسوخ کرنے کے فیصلے کو اس بات کی علامت سمجھا کہ فوری فوجی تصادم سے بچا جا سکتا ہے۔ اسی دوران امریکی اسٹاک مارکیٹ کے بڑے اشاریوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، کیونکہ سفارتی حل کی امیدیں بڑھ گئیں۔
واشنگٹن کی جانب سے پُرامید بیانات کے باوجود تجزیہ کار اب بھی محتاط ہیں۔ ماضی میں بھی جلد متوقع معاہدوں کے اعلانات کیے گئے تھے جو پائیدار نتائج دینے میں ناکام رہے۔ مذاکراتی عمل میں شامل سفارت کاروں نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال اب بھی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور حالات انتہائی غیر یقینی ہیں۔
