اسلام آباد: حکومت نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے ایک نیا منصوبہ متعارف کرایا ہے جس کا مقصد چھوٹے دکانداروں اور ریٹیلرز کو باقاعدہ ٹیکس نظام کا حصہ بنانا ہے۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد معیشت کے غیر رسمی شعبے کو دستاویزی بنانا، ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر بنانا اور ریونیو میں اضافہ کرنا ہے۔ منصوبے کے تحت چھوٹے تاجروں کے لیے رجسٹریشن اور ٹیکس فائلنگ کے عمل کو آسان بنایا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو نظام میں شامل کیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اس منصوبے کی نگرانی کرے گا جبکہ اس کے نفاذ کے لیے مرحلہ وار حکمتِ عملی اپنائی جائے گی۔ چھوٹے کاروباری افراد کے لیے سہولت مراکز اور آگاہی مہمات بھی شروع کی جائیں گی تاکہ انہیں ٹیکس نظام میں شمولیت کے لیے ترغیب دی جا سکے۔
حکام کے مطابق ریٹیل سیکٹر کا بڑا حصہ اب بھی غیر رسمی معیشت کا حصہ ہے، جس کے باعث ریاست کو محصولات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے حکومت کا ہدف ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور معیشت کو زیادہ شفاف اور دستاویزی بنانا ہے۔
کاروباری برادری کے بعض نمائندوں نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس نظام کو آسان بنانا ضروری ہے، تاہم کچھ حلقوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ چھوٹے تاجروں پر اضافی مالی بوجھ نہ ڈالا جائے۔
حکام نے کہا ہے کہ تاجر تنظیموں اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ منصوبے پر مؤثر اور ہموار عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
یہ اقدام حکومت کی اس وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد ٹیکس نیٹ کو بڑھانا، مالی نظم و ضبط بہتر بنانا اور معیشت کو دستاویزی بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔
