پاکستان کی وزارتِ آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن نے ملک کے پہلے نیشنل سیمی کنڈکٹر کلسٹر کا فریم ورک حتمی شکل دے دیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد پاکستان کو محض لیبر فراہم کرنے والی معیشت سے نکال کر جدید ٹیکنالوجی کی تیاری کے مرکز میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ منصوبہ صنعت کے ماہرین اور عالمی چپ ڈیزائن کمپنیوں کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے، جس میں ڈیزائن، اسمبلی اور ٹیسٹنگ کی سہولیات کو ایک ہی چھت تلے لانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
حکومت کو امید ہے کہ سیمی کنڈکٹر ڈیزائن کو مقامی سطح پر لانے سے ملک عالمی سپلائی چین کے اتار چڑھاؤ سے محفوظ رہے گا۔ حکام کے مطابق، یہ کلسٹر اسٹارٹ اپس اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے ایک وقف ایکو سسٹم فراہم کرے گا، جہاں ٹیکس مراعات اور خصوصی انفراسٹرکچر کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی—ایسی سہولیات جو موجودہ صنعتی زونز میں اب تک مفقود ہیں۔
ماہرین طویل عرصے سے پاکستان میں ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ کی راہ میں بجلی کی عدم دستیابی اور بلند آپریشنل اخراجات کو سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے رہے ہیں۔ نیا فریم ورک اس کلسٹر کو "اسپیشلائزڈ زون” قرار دے کر ان مسائل سے نمٹنے کی کوشش کرے گا، جس میں بلا تعطل بجلی اور آسان ریگولیٹری ماحول کا وعدہ کیا گیا ہے۔ تاہم، سرمایہ کاروں کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اس بار انفراسٹرکچر کی فراہمی میں سنجیدہ ہے یا یہ منصوبہ بھی ماضی کی طرح فائلوں تک محدود رہے گا۔
عالمی سیمی کنڈکٹر مارکیٹ کا حجم 500 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ اس میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ چپ ڈیزائن اور خصوصی پیکیجنگ میں اپنی جگہ بنا کر حکومت اس منافع بخش مارکیٹ کا ایک چھوٹا مگر اہم حصہ حاصل کرنے کی خواہش مند ہے۔ اس منصوبے کی کامیابی کا دارومدار تربیت یافتہ افرادی قوت پر ہے۔ وزارت کا دعویٰ ہے کہ مقامی انجینئرنگ یونیورسٹیوں کے نصاب کو سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے پر کام شروع ہو چکا ہے۔
منصوبے سے منسلک ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم صرف اسمبلی لائنز نہیں لگانا چاہتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ انٹیلیکچوئل پراپرٹی یہیں تخلیق ہو۔ پائیداری کا یہی واحد راستہ ہے۔”
توقع ہے کہ اس فریم ورک پر عملدرآمد کا مرحلہ اگلی سہ ماہی سے شروع ہو جائے گا، جس میں اسلام آباد اور لاہور کے ڈیزائن سینٹرز پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اگر حکومت اپنے اہداف وقت پر حاصل کر لیتی ہے، تو اگلے 24 ماہ میں سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں تربیت یافتہ گریجویٹس اور مقامی ڈیزائن کے پہلے پروٹوٹائپس مارکیٹ میں آ سکتے ہیں۔
فی الحال یہ پالیسی صرف کاغذات کا حصہ ہے۔ اس منصوبے کا اصل امتحان تب شروع ہوگا جب پہلی غیر ملکی فرم یہاں سرمایہ کاری کے معاہدے پر دستخط کرے گی اور عملی کام کا آغاز ہوگا۔
