ذیابیطس کے مریضوں میں استعمال ہونے والی ایک عام دوا اب جگر کی چربی اور اس سے پیدا ہونے والے زخموں کے علاج میں نئی امید بن کر ابھری ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق، یہ دوا ان مریضوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے جن کے پاس جگر کے سکڑنے کے علاج کے لیے فی الحال کوئی باقاعدہ دوا موجود نہیں ہے۔
تحقیقی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ‘سیمی گلوٹائیڈ’ نامی دوا، جو عام طور پر خون میں شوگر اور وزن کو کنٹرول کرنے کے لیے دی جاتی ہے، جگر میں جمع ہونے والے داغوں اور سکڑن کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جگر میں چربی جمع ہونے سے پیدا ہونے والی سوزش وقت کے ساتھ ساتھ جگر کے فیل ہونے یا سروسس کا باعث بنتی ہے، اور یہ دوا اسی عمل کو روکنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔
مریضوں پر کیے گئے حالیہ ٹرائلز کے نتائج حوصلہ افزا ہیں۔ شرکاء میں جگر کی سختی—جو کہ زخموں کی بنیادی علامت ہے—میں واضح کمی دیکھی گئی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ دوا جسم میں میٹابولک دباؤ اور سوزش کو کم کرتی ہے، جس سے جگر کے خلیات کو خود کو بحال کرنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جسے پہلے طبی مداخلت کے بغیر ناممکن سمجھا جاتا تھا۔
مطالعے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ جن مریضوں نے یہ دوا باقاعدگی سے استعمال کی، ان کی حالت پلیسبو (غیر مؤثر دوا) لینے والوں کے مقابلے میں کہیں بہتر رہی۔ اگرچہ یہ دوا بھوک اور انسولین کو کنٹرول کرنے والے ہارمونز کی نقل کرتی ہے، لیکن جگر پر اس کا اثر ایک ‘میٹابولک اسٹیبلائزر’ کے طور پر ظاہر ہوا ہے، جو بیماری کو مزید بگڑنے سے روکتا ہے۔
تاہم، ڈاکٹرز احتیاط برتنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ یہ دوا کسی جادوئی گولی کی طرح نہیں ہے، بلکہ اسے طرز زندگی میں تبدیلیوں کے ساتھ ہی مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ خوراک میں احتیاط اور جسمانی سرگرمی اب بھی جگر کی صحت کے لیے بنیادی ستون ہیں۔ صرف دوا پر انحصار کرنا اور موٹاپے یا انسولین ریزسٹنس جیسے بنیادی مسائل کو نظر انداز کرنا علاج کی افادیت کو محدود کر سکتا ہے۔
طبی حلقے اب وسیع پیمانے پر طویل مدتی تحقیق کے منتظر ہیں تاکہ یہ تصدیق کی جا سکے کہ آیا یہ دوا جگر کے کینسر یا ٹرانسپلانٹ کی نوبت آنے سے روک سکتی ہے۔ اگر بڑے پیمانے پر ٹرائلز کے نتائج یہی رہے، تو لاکھوں افراد کے لیے جگر کے علاج کا معیار بدل سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی پیش رفت ہے جس کا طبی دنیا برسوں سے انتظار کر رہی تھی۔
