فیڈرل بورڈ آف ریونیو مئی 2026 کا نظرثانی شدہ ٹیکس ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا، جس سے آئندہ وفاقی بجٹ سے قبل حکومت پر مالی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایف بی آر نے مئی میں تقریباً 967 ارب روپے ٹیکس وصول کیا، جبکہ نظرثانی شدہ ماہانہ ہدف تقریباً 994 ارب روپے تھا۔ اس طرح مئی کے دوران ٹیکس وصولیوں میں تقریباً 28 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
اگرچہ ایف بی آر ہدف حاصل نہیں کر سکا، مگر گزشتہ سال کے مقابلے میں وصولیوں میں اضافہ ضرور ہوا۔ گزشتہ سال مئی میں ٹیکس وصولی تقریباً 906 ارب روپے رہی تھی، یعنی اس سال مئی میں وصولی میں تقریباً 7 فیصد اضافہ ہوا۔ لیکن یہ اضافہ سرکاری ہدف تک پہنچنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوا۔
یہ کمی اس لیے اہم ہے کیونکہ پاکستان پہلے ہی ٹیکس آمدنی بڑھانے، بجٹ خسارہ کم کرنے اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کرنے کے دباؤ میں ہے۔ ایک مہینے کی کمی بظاہر بہت بڑی نہ لگے، مگر پورے مالی سال کی صورتحال دیکھیں تو تصویر زیادہ مشکل نظر آتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق جولائی سے مئی کے دوران ایف بی آر کی مجموعی ٹیکس وصولی تقریباً 11.227 کھرب روپے رہی، جبکہ نظرثانی شدہ ہدف تقریباً 12.095 کھرب روپے تھا۔ اس حساب سے 11 ماہ میں مجموعی شارٹ فال تقریباً 868 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
اعداد و شمار میں کچھ فرق اس لیے بھی سامنے آ رہا ہے کیونکہ مختلف رپورٹس مختلف اہداف کو بنیاد بنا رہی ہیں۔ بعض رپورٹس مئی کی وصولی کا موازنہ نظرثانی شدہ ہدف سے کرتی ہیں، جس سے 28 ارب روپے کا شارٹ فال بنتا ہے۔ جبکہ کچھ رپورٹس اصل ماہانہ ہدف سے موازنہ کرتی ہیں، جس سے کمی کہیں زیادہ دکھائی دیتی ہے۔
حکومت پہلے ہی سالانہ ریونیو ہدف کم کر چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایف بی آر کا سالانہ ہدف تقریباً 13 کھرب روپے تک لایا گیا ہے، جبکہ بجٹ میں اصل ہدف 14.131 کھرب روپے رکھا گیا تھا۔ اس کے باوجود ایف بی آر کو ہدف حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ صورتحال آئندہ بجٹ کے لیے خاصی حساس ہے۔ حکومت کو اب یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ ٹیکس آمدنی بڑھانے کے لیے نئے اقدامات کیے جائیں، ٹیکس چھوٹ ختم کی جائے، enforcement سخت کی جائے یا پہلے سے ٹیکس دینے والے طبقوں پر مزید بوجھ ڈالا جائے۔
کاروباری طبقے اور تنخواہ دار افراد کے لیے یہ خبر تشویش کا باعث ہو سکتی ہے، کیونکہ پاکستان میں اکثر ٹیکس اہداف پورے کرنے کے لیے دباؤ انہی documented طبقات پر بڑھتا ہے جو پہلے سے ٹیکس دے رہے ہوتے ہیں۔ دوسری طرف معیشت کا بڑا حصہ ابھی بھی مکمل طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں۔
مئی کی کارکردگی سے واضح ہوتا ہے کہ ایف بی آر کی وصولیاں بڑھ رہی ہیں، مگر سرکاری اہداف کے مقابلے میں رفتار کم ہے۔ مالی سال ختم ہونے میں صرف ایک مہینہ باقی ہے، اور اتنا بڑا شارٹ فال حکومت کے لیے بجٹ سازی کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔
