خیبر پختونخوا کی فوڈ ڈیپارٹمنٹ نے سالانہ گندم خریداری مہم کا آغاز 15 اپریل سے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صوبائی کابینہ نے رواں ہفتے اس ٹائم لائن کی منظوری دی ہے، جس کا مقصد مقامی سطح پر گندم کے ذخائر کو محفوظ بنانا اور آٹے کی قیمتوں میں استحکام لانا ہے۔
حکومت نے صوبے بھر کے کسانوں سے 3 لاکھ میٹرک ٹن گندم براہ راست خریدنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ اس اقدام سے کاشتکاروں کو ان کی فصل کا مناسب معاوضہ ملے گا اور صوبے کا فوڈ سپلائی چین مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے محفوظ رہے گا۔
کسان تنظیموں کی جانب سے گندم کی امدادی قیمت میں اضافے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ کھاد اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔ اگرچہ حکومت نے ابھی تک ایسی قیمت کا اعلان نہیں کیا جس پر تمام فریقین متفق ہوں، تاہم محکمہ خوراک کا کہنا ہے کہ 15 اپریل تک صوبے کے تمام بڑے گندم پیدا کرنے والے اضلاع میں خریداری مراکز فعال کر دیے جائیں گے۔
گزشتہ برس خریداری مہم کے دوران کسانوں کو ڈیجیٹل رجسٹریشن کے پیچیدہ نظام اور لاجسٹک مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ محکمہ خوراک کے مطابق اس بار رجسٹریشن کا عمل آسان بنایا گیا ہے تاکہ کسانوں کو خریداری مراکز پر طویل انتظار نہ کرنا پڑے۔
زرعی ماہرین اس ہدف کے حصول پر تذبذب کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے امدادی قیمت میں خاطر خواہ اضافہ نہ کیا تو کسان اپنی فصل نجی ملز کو فروخت کرنے کو ترجیح دیں گے، جو اکثر فوری نقد ادائیگی کرتی ہیں۔ اگر حکومت نجی مارکیٹ کے نرخوں کا مقابلہ نہ کر سکی تو 3 لاکھ ٹن کا ہدف حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
محکمہ خوراک نے تمام ضلعی افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ 10 اپریل تک خریداری مراکز کی حتمی فہرست تیار کر لیں۔ محکمہ نے اس بار ادائیگیوں کے عمل کو تیز کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے تاکہ کسانوں کو گزشتہ برسوں جیسی تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
صوبائی حکومت اس مہم کے ذریعے گرمیوں میں آٹے کی طلب بڑھنے سے قبل سپلائی کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔ تاہم، کسانوں کا کتنا حصہ سرکاری مراکز کا رخ کرے گا، اس کا حتمی فیصلہ آپریشن کے پہلے ہفتے میں سامنے آنے والے اعداد و شمار سے ہوگا۔
