چانگ ژو، چین: پاکستان اور چین نے صنعتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کی منتقلی، سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور مقامی سطح پر پیداواری صلاحیت بڑھانے پر بات چیت تیز کر دی ہے۔
یہ پیش رفت وزیرِ اعظم شہباز شریف کے دورۂ چین کے دوران سامنے آئی، جہاں پاکستانی حکام نے چینی کمپنیوں اور سرکاری نمائندوں سے ملاقاتوں میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستان صرف چینی مصنوعات کی منڈی نہیں بننا چاہتا بلکہ مینوفیکچرنگ، زرعی مشینری، الیکٹرانکس اور جدید صنعتی ٹیکنالوجی میں عملی شراکت داری چاہتا ہے۔
پاکستان کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے چانگ ژو میں اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کی قیادت کی۔ ان ملاقاتوں میں سرمایہ کاری، صنعتی پیداوار، ٹیکنالوجی شیئرنگ، مشترکہ منصوبوں اور پاکستانی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے امکانات پر غور کیا گیا۔
حکام کے مطابق پاکستان چینی سرمایہ کاروں کو خصوصی اقتصادی زونز، مقامی اسمبلنگ، برآمدی صنعتوں اور ٹیکنالوجی پر مبنی پیداوار کی طرف راغب کرنا چاہتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ چین کے ساتھ تعاون صرف تجارت تک محدود نہ رہے بلکہ پاکستان کے اندر فیکٹریاں، پیداواری یونٹس اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔
مذاکرات کا ایک اہم حصہ زرعی شعبے سے بھی متعلق تھا۔ وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے چین کی زرعی مشینری بنانے والی کمپنی چانگفا گروپ کے حکام سے ملاقات کی۔ اس دوران ٹریکٹرز، ہارویسٹرز، ڈیزل انجنز، جدید زرعی آلات، مقامی اسمبلنگ اور پاکستان میں زرعی مشینری کی تیاری پر بات چیت ہوئی۔
اسی سلسلے میں کنگز برج وینچرز اور چانگفا گروپ کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے، جس کے تحت زرعی مشینری کی تیاری، تکنیکی تعاون اور مرحلہ وار مقامی پیداوار کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ جدید زرعی مشینری کی مقامی تیاری سے کسانوں کی لاگت کم ہو سکتی ہے، پیداوار میں اضافہ ہو سکتا ہے اور غذائی تحفظ کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے کئی زرعی علاقوں میں اب بھی پرانی مشینری استعمال ہوتی ہے، جس سے پیداوار متاثر ہوتی ہے اور کسانوں کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔
یہ ملاقاتیں چین پاکستان اقتصادی راہداری، یعنی سی پیک، کے دوسرے مرحلے کے تناظر میں بھی اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ سی پیک کا پہلا مرحلہ زیادہ تر توانائی، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے پر مرکوز تھا، جبکہ دوسرے مرحلے میں صنعتی ترقی، خصوصی اقتصادی زونز، زراعت، ٹیکنالوجی اور برآمدات پر زور دیا جا رہا ہے۔
رواں ماہ لاہور میں پاکستان چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران دونوں ممالک کی کمپنیوں نے 52 مفاہمتی یادداشتوں اور تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔ ان معاہدوں میں گھریلو برقی آلات، الیکٹریکل مشینری، بیٹری اسٹوریج اور متعلقہ صنعتی شعبے شامل تھے۔
ہارون اختر خان پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کو چین کے لیے صرف صارف منڈی نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے پیداواری اور ٹیکنالوجی شراکت دار بننا ہوگا۔ ان کے مطابق گھریلو آلات، الیکٹریکل ڈیوائسز اور بیٹری اسٹوریج جیسے شعبے مستقبل میں پاکستان کے لیے اہم صنعتی مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔
تاہم ماہرین کے نزدیک اصل امتحان معاہدوں پر عمل درآمد ہوگا۔ پاکستان ماضی میں بھی کئی سرمایہ کاری معاہدے کر چکا ہے، لیکن بیوروکریسی، پالیسیوں میں غیر یقینی، بنیادی ڈھانچے کی کمی اور سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے کئی منصوبے سست روی کا شکار رہے۔
چینی کارکنوں اور منصوبوں کی سیکیورٹی بھی ایک حساس معاملہ ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان میں چینی شہریوں اور سی پیک منصوبوں پر حملوں کے بعد بیجنگ بارہا سیکیورٹی بہتر بنانے پر زور دے چکا ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی چین کے ساتھ بات چیت میں چینی کارکنوں کے تحفظ اور منصوبوں میں تاخیر کم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
فی الحال چانگ ژو سے آنے والا پیغام مثبت ہے۔ پاکستان چین کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ صنعتی منتقلی، مشترکہ پیداوار اور زرعی ٹیکنالوجی کے لیے ایک قابلِ عمل مرکز بن سکتا ہے۔
لیکن بات یہاں آ کر رکتی نہیں۔
اگر حالیہ مفاہمتیں حقیقی سرمایہ کاری، مقامی پیداوار، نئی فیکٹریوں اور برآمدی صنعتوں میں تبدیل ہوئیں تو پاکستان کی صنعتی بنیاد کو ایک بڑا سہارا مل سکتا ہے۔ لیکن اگر عمل درآمد کمزور رہا تو یہ کوششیں بھی ماضی کے کئی وعدوں کی طرح کاغذی پیش رفت بن کر رہ جائیں گی۔
