پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ اپریل 2026 میں دوبارہ خسارے میں چلا گیا، جب اس کا حجم 324 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ یہ تبدیلی اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ مارچ 2026 میں ملک نے 1.134 ارب ڈالر کا سرپلس دکھایا تھا۔ یوں صرف ایک ماہ میں بیرونی کھاتے کی تصویر خاصی بدل گئی۔
اس تبدیلی کی بڑی وجہ درآمدات میں تیز اضافہ نظر آتا ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں ملک کا تجارتی خسارہ 4.07 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو 46 ماہ کی بلند ترین سطح بتائی جا رہی ہے۔ اسی ماہ برآمدات 2.48 ارب ڈالر رہیں جبکہ درآمدات 6.55 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، یعنی درآمدی بل نے بیرونی شعبے پر واضح دباؤ ڈالا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ترسیلاتِ زر نے کچھ سہارا ضرور دیا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق اپریل 2026 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 3.5 ارب ڈالر بھیجے۔ یہ رقم سال بہ سال بنیاد پر 11.4 فیصد زیادہ تھی، اگرچہ ماہ بہ ماہ بنیاد پر اس میں 7.6 فیصد کمی آئی۔ دوسرے لفظوں میں، ریمیٹنس مضبوط رہیں، مگر وہ بڑھتے ہوئے درآمدی دباؤ کو مکمل طور پر متوازن نہ کر سکیں۔
وسیع تر مالی سالی تصویر بھی اب کچھ کم آرام دہ دکھائی دیتی ہے۔ دستیاب رپورٹوں کے مطابق جولائی تا اپریل FY26 کے دوران پاکستان کا مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ 252 ملین ڈالر خسارے میں رہا، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 1.66 ارب ڈالر سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا۔ یہ فرق بتاتا ہے کہ بیرونی شعبے میں بہتری آئی ضرور تھی، مگر وہ ابھی اتنی مضبوط نہیں ہوئی کہ درآمدات کے ایک بڑے جھٹکے کو آسانی سے برداشت کر سکے۔
اس پس منظر میں اسٹیٹ بینک کی حالیہ مانیٹری پالیسی بھی اہم ہو جاتی ہے۔ 27 اپریل 2026 کے بیان میں مرکزی بینک نے خبردار کیا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی قیمتیں، فریٹ چارجز اور انشورنس پریمیم بدستور بلند ہیں، جس سے پاکستان جیسے درآمدی انحصار والے ملک کے لیے بیرونی کھاتوں کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ اپریل کا کرنٹ اکاؤنٹ ڈیٹا اس خدشے کو کافی حد تک تقویت دیتا ہے۔
حکومت اور معاشی پالیسی سازوں کے لیے اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ درآمدی دباؤ کو قابو میں رکھتے ہوئے برآمدات اور ترسیلاتِ زر کی رفتار برقرار رکھ سکتے ہیں۔ ابھی صورتِ حال بحران جیسی نہیں، لیکن اپریل کے اعداد و شمار واضح اشارہ دے رہے ہیں کہ پاکستان کے بیرونی شعبے میں گنجائش اب بھی محدود ہے۔ ایک مضبوط مہینہ اعتماد بڑھا سکتا ہے، مگر اگلا مہینہ فوری طور پر کمزوری بھی بے نقاب کر سکتا ہے۔
