واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران سے متعلق اعلیٰ سطح کی ملاقات جمعے کو بغیر کسی واضح معاہدے کے ختم ہو گئی، حالانکہ انہوں نے پہلے کہا تھا کہ وہ اس معاملے پر “حتمی فیصلہ” کرنے جا رہے ہیں۔
مجوزہ فریم ورک میں مبینہ طور پر ایران کے ساتھ عارضی جنگ بندی میں 60 دن کی توسیع، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، سمندری بارودی سرنگیں ہٹانے اور تہران کے جوہری پروگرام پر بات چیت شروع کرنے جیسے نکات شامل ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے ملاقات کے بعد کوئی حتمی اعلان نہیں کیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ صرف ایسا معاہدہ قبول کریں گے جو واشنگٹن کی “ریڈ لائنز” پر پورا اترے، خاص طور پر یہ یقین دہانی کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
ایران نے امریکی دعووں پر سخت ردعمل دیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر جوہری معاملے پر کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ نے بھی ٹرمپ کے بعض بیانات کو “سچ اور جھوٹ کا امتزاج” قرار دیا۔
سب سے بڑا تنازع ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر ہے، جس کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ تقریباً 440 کلوگرام 60 فیصد تک افزودہ مواد رکھتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق قازقستان نے ممکنہ معاہدے کی صورت میں یہ مواد اپنے پاس رکھنے کی پیشکش کی ہے، مگر ابھی اس پر بھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
معاملہ صرف سفارت کاری تک محدود نہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے، اور وہاں طویل خلل توانائی کی قیمتوں اور عالمی سپلائی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
فی الحال صورتحال غیر واضح ہے۔ واشنگٹن کہہ رہا ہے کہ معاہدہ قریب ہو سکتا ہے، جبکہ تہران اسے مسترد کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے “حتمی فیصلے” کی بات کی تھی، مگر دنیا کو ابھی جواب کا انتظار ہے۔
