پشاور/گلگت: وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے گلگت بلتستان کے چیف جسٹس سے اپیل کی ہے کہ وہ آئندہ انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے کردار ادا کریں، کیونکہ ان کے بقول انتخابی عمل سے متعلق “انتہائی تشویش ناک اطلاعات” سامنے آ رہی ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا کہ اس کے رہنماؤں کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے سے روکا جا رہا ہے۔ پارٹی کے مطابق کئی رہنماؤں، جن میں خیبر پختونخوا پی ٹی آئی کے صدر ایم این اے جنید اکبر بھی شامل ہیں، کو علاقے سے نکالا گیا۔
گلگت بلتستان حکومت نے گرفتاریوں کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی انتخابی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر کی گئی، کسی سیاسی انتقام کے تحت نہیں۔
سہیل آفریدی نے اپنے مؤقف میں کہا کہ اگر سیاسی جماعتوں کو آزادانہ مہم کا موقع نہ ملا تو انتخابات کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ پی ٹی آئی اسے “پری پول دھاندلی” قرار دے رہی ہے، جبکہ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تمام اقدامات قانون کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔
گلگت بلتستان میں آئندہ انتخابات سے قبل سیاسی ماحول پہلے ہی گرم ہے۔ ایسے میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے چیف جسٹس کو کی گئی اپیل نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
اب اصل امتحان انتخابی اداروں اور انتظامیہ کا ہے۔ اگر ووٹرز کو یہ یقین نہ ہوا کہ سب کو برابر موقع ملا ہے، تو نتائج آنے کے بعد بھی تنازع ختم نہیں ہو گا۔
