وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیر صدارت ہونے والے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں بڑی تعداد میں ارکان اسمبلی شریک نہیں ہوئے۔ اجلاس صوبائی بجٹ سے قبل بلایا گیا تھا، مگر غیر حاضریوں نے پارٹی کے اندر نظم و ضبط اور اتحاد سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی کے 92 ارکان میں سے 52 ارکان اجلاس میں شریک ہوئے، جبکہ 30 سے 35 ارکان غیر حاضر رہے۔ بعض رپورٹس میں غیر حاضر ارکان کی تعداد تقریباً 40 بتائی گئی ہے، جن میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا نام بھی شامل ہے۔ تاہم حکومتی ذرائع نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں تقریباً 72 ارکان موجود تھے۔
یہ اجلاس اتوار کو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیر صدارت ہوا۔ اس سے پہلے بھی کابینہ میں حالیہ توسیع کے بعد پارٹی کے اندر ناراضی کی خبریں سامنے آ رہی تھیں۔ ذرائع کے مطابق بعض ارکان کو حکومتی کارکردگی، ترقیاتی فنڈز کی تقسیم، بیوروکریسی کے رویے، امن و امان اور فیصلہ سازی میں مشاورت نہ ہونے پر تحفظات ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے یہ اجلاس اپنی عددی طاقت دکھانے کا موقع تھا، مگر متضاد حاضری اعداد و شمار نے معاملہ مزید سیاسی بنا دیا۔ اجلاس میں شریک ارکان سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ مخالفین پی ٹی آئی ارکان کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن پارٹی عمران خان کے جھنڈے تلے متحد ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ منگل کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل جائیں گے۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ ارکان بیرون ملک ہونے کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے، جبکہ بعض ذاتی مصروفیات کی وجہ سے غیر حاضر رہے۔ اس کے باوجود علی امین گنڈاپور جیسے اہم رہنما کی غیر موجودگی نے سیاسی حلقوں میں بحث کو ہوا دی ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت نے اختلافات کی خبروں کو کم اہمیت دینے کی کوشش کی ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے پہلے ہی پارٹی میں گروپ بندی کی رپورٹس کو جھوٹا، من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی ارکان وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں متحد ہیں۔
معاملے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ صوبائی بجٹ قریب ہے۔ ایسے وقت میں وزیراعلیٰ کو اپنی پارلیمانی پارٹی کی مکمل حمایت درکار ہوگی۔ اگر ترقیاتی فنڈز، کابینہ نمائندگی اور فیصلہ سازی میں مشاورت جیسے معاملات حل نہ ہوئے تو یہ ناراضی آگے چل کر حکومت کے لیے بڑی سیاسی مشکل بن سکتی ہے۔
فی الحال پی ٹی آئی کی قیادت بغاوت یا تقسیم کے تاثر کو مسترد کر رہی ہے۔ لیکن اتوار کا اجلاس یہ ضرور بتا گیا کہ خیبرپختونخوا، جو پی ٹی آئی کا سب سے مضبوط سیاسی قلعہ سمجھا جاتا ہے، وہاں بھی اندرونی ناراضی کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
