واشنگٹن: امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ۔ایران معاہدے کے مسودے میں تبدیلیاں طلب کی ہیں، جن میں تہران کے افزودہ یورینیم ذخائر اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق سخت زبان شامل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق ٹرمپ کی مجوزہ ترامیم دو حساس نکات پر مرکوز ہیں: ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کو کیسے ختم یا منتقل کیا جائے، اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کیسے معمول پر لائی جائے۔ رپورٹ کے مطابق مجوزہ یادداشت میں جنگ بندی میں 60 روز کی توسیع، اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا، ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کرنا اور جوہری معاملات پر نئے مذاکرات شامل ہیں۔
ایکسيوس نے بھی رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے مسودے کی منظوری مؤخر کر دی، کیونکہ انہوں نے اپنی ٹیم سے کہا کہ تہران سے مزید رعایتیں حاصل کی جائیں، خاص طور پر ایران کے یورینیم ذخائر کے معاملے پر۔ رپورٹ کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان مزید بات چیت متوقع ہے۔
ٹرمپ عوامی طور پر کہہ چکے ہیں کہ وہ معاہدہ حتمی کرنے میں “جلدی” میں نہیں، کیونکہ کسی بھی معاہدے کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
آبنائے ہرمز مذاکرات کا مرکزی نکتہ ہے، کیونکہ یہ دنیا کے اہم ترین تیل بردار بحری راستوں میں سے ایک ہے۔ ٹرمپ کا اصرار ہے کہ یہ بین الاقوامی پانیوں کے طور پر کھلی رہنی چاہیے، جبکہ رپورٹس کے مطابق ایران پابندیوں اور منجمد اثاثوں سے متعلق ضمانتیں چاہتا ہے۔
ایران نے ابھی تک ترمیم شدہ زبان کو باضابطہ طور پر قبول نہیں کیا۔ ایرانی حکام واشنگٹن کی قابلِ اعتماد حیثیت پر سوال اٹھاتے رہے ہیں، جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کہہ چکے ہیں کہ بات چیت جاری ہے۔
فی الحال معاہدہ قریب ہے، مگر حتمی نہیں۔ ٹرمپ کی آخری مرحلے کی ترامیم ظاہر کرتی ہیں کہ وائٹ ہاؤس ایسا مسودہ چاہتا ہے جسے وہ زیادہ سخت، واضح اور تہران کے لیے محدود کرنے والا قرار دے سکے۔
