خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور میں ہتّر انڈسٹریل اسٹیٹ کے قریب گیس پائپ لائن میں آگ بھڑکنے کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد جاں بحق ہوگئے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ نے قریب موجود رہائشی ڈھانچوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔
ریسکیو اور ضلعی انتظامیہ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی لاشیں مختلف طبی مراکز منتقل کی گئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تین لاشیں ہری پور ٹراما سینٹر جبکہ پانچ لاشیں رورل ہیلتھ سینٹر کوٹ نجیب اللہ منتقل کی گئیں۔ زخمیوں کو بھی قریبی اسپتالوں میں طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا۔
واقعے کے بعد ریسکیو ٹیمیں، فائر فائٹرز اور مقامی انتظامیہ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ امدادی کارروائیوں کا پہلا ہدف آگ پر قابو پانا، متاثرہ افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کرنا اور آس پاس کے علاقے میں مزید نقصان کو روکنا تھا۔ ابتدائی خبروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ آگ بہت تیزی سے پھیلی، جس کی وجہ سے کئی گھرانے اچانک زد میں آ گئے۔
تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ پائپ لائن میں آگ کس وجہ سے لگی۔ حکام کی جانب سے تکنیکی نوعیت کی مکمل تفصیل ابھی سامنے نہیں آئی، اس لیے اصل سبب جاننے کے لیے باقاعدہ تحقیقات متوقع ہیں۔ ایسے واقعات ایک بار پھر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ صنعتی تنصیبات اور آبادی کے قریب موجود خطرناک انفراسٹرکچر کی نگرانی اور حفاظتی نظام کس حد تک مؤثر ہیں۔
ہتّر انڈسٹریل اسٹیٹ خیبر پختونخوا کے اہم صنعتی مراکز میں شمار ہوتی ہے، جہاں فیکٹریوں کے ساتھ ساتھ رہائشی آبادیاں بھی موجود ہیں۔ اسی وجہ سے کسی بھی صنعتی حادثے کے اثرات صرف کارخانوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ عام شہری بھی براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔ ہری پور کا یہ واقعہ بھی اسی بڑے مسئلے کو نمایاں کرتا ہے۔
حکام کی جانب سے مزید تفصیلات، متاثرین کی مکمل شناخت اور ممکنہ ذمہ داری کے تعین کا انتظار ہے۔ فی الحال یہ واقعہ ہری پور کے لیے ایک بڑا سانحہ بن چکا ہے، جس میں ایک ہی جھٹکے میں کئی زندگیاں ختم ہو گئیں۔
