مراکش نے منگل کے روز فیفا ورلڈ کپ کے ایک سنسنی خیز مقابلے میں نیدرلینڈز کو پنالٹی شوٹ آؤٹ پر شکست دے کر ٹورنامنٹ کے آخری 16 (ناک آؤٹ) مرحلے کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ مقررہ وقت تک مقابلہ 1-1 سے برابر رہا، جس کے بعد فیصلہ پنالٹی ککس کے ذریعے ہوا۔
اٹلس لائینز کے نام سے مشہور مراکشی ٹیم نے میچ کے دوران غیر معمولی دفاعی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔ مراکش نے اپنی پانچ میں سے چار پنالٹی ککس کو گول میں تبدیل کیا، جبکہ ڈچ کھلاڑی اسٹیڈیم میں موجود شائقین کے دباؤ کے سامنے لڑکھڑا گئے۔
یہ فتح مراکشی فٹ بال کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ مراکش نے نہ صرف گروپ مرحلے کی رکاوٹ عبور کی بلکہ یورپی فٹ بال کی بڑی طاقت سمجھے جانے والے نیدرلینڈز کی حکمت عملی کو بھی ناکام بنا دیا۔ دوسری جانب، ڈچ ٹیم ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی ہے، جو ان کے شائقین کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
میچ کا پہلا گول 34 ویں منٹ میں یوسف النصیری نے ہیڈر کے ذریعے اسکور کیا، جس سے مراکشی شائقین میں جوش کی لہر دوڑ گئی۔ وقفے کے فوراً بعد نیدرلینڈز کے کودی گاکپو نے گول کر کے مقابلہ برابر کر دیا۔ اس کے بعد ڈچ ٹیم نے برتری حاصل کرنے کی سر توڑ کوشش کی، مگر مراکش کی آہنی دفاعی دیوار نہ ٹوٹ سکی۔
میچ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے مراکش کے ہیڈ کوچ ولید الرکراکی نے کہا کہ "ہمیں معلوم تھا کہ گیند ان کے پاس رہے گی، مگر ہم یہاں خوبصورت فٹ بال کھیلنے نہیں، بلکہ جیتنے آئے تھے۔”
پنالٹی شوٹ آؤٹ میں مراکش کے گول کیپر یاسین بونو میچ کے ہیرو ثابت ہوئے، جنہوں نے ڈچ کھلاڑیوں کی دو کوششوں کو ناکام بنایا۔ آخری اور فیصلہ کن پنالٹی اشرف حکیمی نے لی، جنہوں نے انتہائی اطمینان کے ساتھ گیند کو جال میں پہنچا کر 2-4 سے فتح یقینی بنائی۔
اس نتیجے نے ٹورنامنٹ کے اگلے مرحلے کی تصویر بدل دی ہے۔ مراکش اب بھرپور اعتماد کے ساتھ ناک آؤٹ مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جبکہ نیدرلینڈز کی ٹیم کو وطن واپسی پر کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اٹلس لائینز کے لیے اب یہ ٹورنامنٹ صرف شرکت تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ نظم و ضبط سے لیس ٹیم مزید کتنا آگے تک جاتی ہے۔
