اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ امن، تعاون اور علاقائی استحکام کی ایک اہم علامت ہے، جس نے کئی دہائیوں سے مشترکہ آبی وسائل کے انتظام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بات چیت، باہمی احترام اور بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کے ذریعے پیچیدہ معاملات کو بھی پرامن انداز میں حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اور سفارتی اختلافات کے باوجود یہ معاہدہ اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پانی کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کا ایک تسلیم شدہ فریم ورک ہے اور اس سے متعلق قانونی ذمہ داریوں کی پاسداری علاقائی اعتماد اور دیرپا استحکام کے لیے ضروری ہے۔
حکام نے اس موقع پر آبی وسائل سے متعلق مسائل کے حل کے لیے مسلسل سفارتی رابطوں اور تعمیری مذاکرات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ دریاؤں کا مؤثر انتظام زراعت، پینے کے پانی اور معاشی سرگرمیوں سے وابستہ لاکھوں افراد کے مفاد میں ہے۔
وزیر اطلاعات نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان باہمی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، جبکہ ماہرین کے مطابق آبی تعاون کا تسلسل خطے میں اعتماد، امن اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔
