عدالت نے غیر ملکی خواتین کے اغوا کے کیس میں ملوث ایک بااثر ملزم کو حاصل ‘خصوصی مراعات’ ختم کرتے ہوئے پولیس کو حکم دیا ہے کہ اسے کسی عام مجرم کی طرح زیر حراست رکھا جائے۔ ملزم کے صوبائی وزیر سے قریبی تعلقات کی وجہ سے تفتیشی عمل پر سوالات اٹھ رہے تھے، جس پر منگل کے روز عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔
سماعت کے دوران جج نے ملزم کو دی جانے والی کسی بھی قسم کی رعایت یا ‘پروٹوکول’ کو یکسر مسترد کر دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ تفتیش کے دوران ملزم کے ساتھ وہی سلوک روا رکھا جائے جو سنگین جرائم میں ملوث کسی بھی دوسرے ملزم کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
پولیس حکام کے لیے یہ عدالتی حکم ایک بڑا چیلنج ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق، ملزم کی سیاسی رسوخ کی وجہ سے تھانے کی سطح پر تفتیش کو سست روی کا شکار رکھا گیا تھا، تاہم اب عدالتی مداخلت کے بعد یہ ‘غیر اعلانیہ تحفظ’ ختم ہو چکا ہے۔
سماعت کے دوران جج نے ریمارکس دیے کہ "غیر ملکی شہریوں کے اغوا جیسے سنگین معاملے میں قانون سیاسی وابستگیوں کو نہیں پہچانتا۔ ملزم کے ساتھ قانون کے مطابق عام مجرم جیسا برتاؤ کیا جائے۔”
یہ کیس دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا کا ہے، جس پر عالمی مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس واقعے نے مقامی انتظامیہ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے، کیونکہ پولیس تفتیش کے دوران قانون کی بالادستی اور بااثر سیاسی شخصیات کے دباؤ کے درمیان توازن قائم کرنے میں ناکام رہی تھی۔
ملزم کے وکلا نے حراست کے دوران ‘سیکیورٹی خدشات’ کا عذر پیش کرنے کی کوشش کی، جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔ عدالت نے پولیس کو 48 گھنٹوں کے اندر تفتیشی پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا ہے، جس میں شفافیت کو یقینی بنانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا پولیس اس دباؤ کو برقرار رکھ پائے گی؟ عدالت کی براہ راست نگرانی کے بعد تفتیشی ٹیمیں اب ایک کڑے امتحان سے گزر رہی ہیں، جبکہ وہ سیاسی تحفظ بھی بکھر چکا ہے جس کی آڑ میں ملزم اب تک قانون کی گرفت سے دور تھا۔
