صحت عامہ کا بحران شاذ و نادر ہی ہسپتالوں اور لیبارٹریوں تک محدود رہتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی وبا — چاہے وہ طاعون ہو یا کووڈ-19 — سماج میں داخل ہوئی، اس نے عوامی بے چینی کو ایک نئی طاقت دی۔ جب انسان خود کو جسمانی طور پر غیر محفوظ محسوس کرتا ہے، تو اداروں پر اس کا اعتماد ڈگمگا جاتا ہے، اور یہی کشیدگی اکثر سڑکوں پر احتجاج کی صورت میں نکلتی ہے۔
یہ پیٹرن واضح ہے۔ جیسے جیسے انفیکشن کی شرح بڑھتی ہے، عوامی نافرمانی کا رجحان بھی بڑھ جاتا ہے۔ ماہرینِ سماجیات اسے "بحرانی تھکاوٹ” کا چکر قرار دیتے ہیں: ابتدائی خوف الجھن میں بدلتا ہے، جو بعد ازاں حکمرانوں کے خلاف نفرت میں ڈھل جاتا ہے۔ جب حکومتیں لاک ڈاؤن یا پابندیاں نافذ کرتی ہیں، تو عوام کا غصہ صرف اصولوں کے خلاف نہیں ہوتا، بلکہ یہ اس بے بسی کا ردعمل ہوتا ہے جو وجودی خطرے کے دوران پیدا ہوتی ہے۔
ماہرِ سماجیات ڈاکٹر ایلینا وینس، جو وباؤں کے دوران عوامی رویوں کا مطالعہ کرتی ہیں، کہتی ہیں: "بیماری صرف جسم پر حملہ نہیں کرتی، یہ سماجی معاہدے کو بھی توڑ دیتی ہے۔ جب ریاست تحفظ فراہم کرنے میں ناکام نظر آتی ہے، تو نفسیاتی طور پر ردعمل غصے کی صورت میں نکلتا ہے۔ لوگ حکومتی ایوانوں کو اپنا ہدف بنا لیتے ہیں۔”
گزشتہ پانچ برسوں کا ڈیٹا اس بات کی تصدیق کرتا ہے۔ جن علاقوں میں صحت سے متعلق سخت ترین پابندیاں عائد کی گئیں، وہاں سیاسی پولرائزیشن اور احتجاج میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ یہ صرف پالیسی کا ردعمل نہیں، بلکہ اجتماعی بے بسی کا اظہار ہے۔ جب ایک نظر نہ آنے والا خطرہ روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن جائے، تو معاشرے کے ظاہری ڈھانچے تنقید اور غصے کا مرکز بن جاتے ہیں۔
یہ غصہ شاذ و نادر ہی صحت کی پالیسیوں تک محدود رہتا ہے۔ یہ معاشی شکایات میں ضم ہو جاتا ہے۔ مہنگائی، سپلائی چین کی ناکامی اور بڑھتا ہوا طبقاتی فرق — جو وباؤں سے مزید شدید ہوئے — ایندھن کا کام کرتے ہیں۔ جب ایک عام شہری معاشی بحران کی وجہ سے دو وقت کی روٹی نہیں خرید پاتا، تو اس کا ماسک مینڈیٹ یا پابندیوں پر غصہ درحقیقت اس کے گرتے ہوئے معیارِ زندگی کے خلاف ایک احتجاج ہوتا ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ یہ چکر تب تک نہیں ٹوٹے گا جب تک خطرہ ٹل نہیں جاتا۔ 1918 کی فلو وبا کے بعد سیاسی اثرات تاخیر سے سامنے آئے، لیکن ان کے نتائج گہرے تھے، جنہوں نے اگلی دہائی میں حکومتی نظام میں بڑی تبدیلیاں پیدا کیں۔ آج ہم اسی تاریخ کا ایک تیز تر ورژن دیکھ رہے ہیں۔
جب تک بیماری کا خوف برقرار رہے گا، عوامی درجہ حرارت بلند رہے گا۔ جو حکومتیں طاقت یا جبر کے ذریعے اس صورتحال کو دبانے کی کوشش کرتی ہیں، وہ دراصل بارود کے ڈھیر پر بیٹھی ہوتی ہیں۔ دباؤ بڑھانے سے غصہ ختم نہیں ہوتا، بلکہ وہ سسٹم کے کسی دوسرے، زیادہ حساس حصے میں منتقل ہو جاتا ہے۔
وبا تو بالآخر گزر جائے گی، لیکن یہ اپنے پیچھے جو غم و غصہ چھوڑ کر جائے گی، وہ آنے والے کئی برسوں تک سیاسی ماحول کا تعین کرے گا۔
