کراچی کی ایک جوڈیشل مجسٹریٹ عدالت نے پیر کے روز کلفٹن فائرنگ کیس میں زیر حراست ملزم آغا شہیر کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ ملزم نے ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرائے، جس کے بعد ان کی رہائی ممکن ہوئی۔
یہ واقعہ رواں ماہ کے اوائل میں شہر کے پوش علاقے کلفٹن میں پیش آیا تھا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ملزم کو ایک گاڑی کے قریب تلخ کلامی کے بعد فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس واقعے نے شہر کے متمول علاقوں میں بڑھتے ہوئے اسلحے کے کلچر اور قانون کی عملداری پر عوامی سطح پر شدید بحث کو جنم دیا تھا۔
سماعت کے دوران ملزم کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ ان پر لگائے گئے الزامات مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں اور پولیس کے پاس انہیں جیل میں رکھنے کے لیے ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔ دوسری جانب، استغاثہ کا کہنا تھا کہ سرعام فائرنگ سے عوامی تحفظ کو شدید خطرہ لاحق ہوا، لہذا ضمانت نہیں دی جانی چاہیے۔
عدالت نے پولیس کی جانب سے تفتیش میں سستی اور ہتھیار برآمد نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔ جج نے ریمارکس دیے کہ پولیس ملزم کو طویل عرصے تک حراست میں رکھنے کے لیے کافی مواد پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔
یاد رہے کہ ضمانت کا مطلب کیس کا خاتمہ نہیں ہے۔ آغا شہیر بدستور مرکزی ملزم ہیں اور مقدمہ ٹرائل کورٹ میں چلے گا۔ اب اصل امتحان پولیس کا ہے کہ آیا وہ عوامی دباؤ کے باوجود اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچا پاتی ہے یا نہیں۔
ملزم کی رہائی کے بعد یہ سوال پھر سے سر اٹھا رہا ہے کہ کیا کراچی میں انصاف کا عمل صرف تکنیکی بنیادوں پر منحصر ہے یا عوامی مطالبے کے مطابق احتساب بھی ممکن ہے۔ فی الحال، ملزم آزاد ہے اور تفتیش جاری ہے۔
