ملائیشیا کی ریاست صباح کے ضلع سینڈاکن میں اتوار کی علی الصبح ایک ہولناک آگ نے ساحلی بستی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں 200 گھر جل کر تباہ ہو گئے اور تقریباً 445 افراد بے گھر ہو گئے۔
حکام کے مطابق آگ رات تقریباً 1 بج کر 32 منٹ پر لگی اور لکڑی سے بنے قریب قریب واقع گھروں میں تیزی سے پھیل گئی۔ تیز ہواؤں اور گھروں کے درمیان کم فاصلے نے آگ کو مزید خطرناک بنا دیا، جبکہ بھاٹے کی صورتحال کے باعث امدادی کارروائیوں میں بھی مشکلات پیش آئیں۔
فائر اینڈ ریسکیو حکام نے بتایا کہ آگ پر قابو پانے کی کوششیں ابتدائی مرحلے میں ہی مشکل ہو گئیں کیونکہ متاثرہ آبادی ساحلی اور گنجان تھی۔ کئی خاندان رات کے اندھیرے میں جان بچا کر نکلے، مگر ان کا گھریلو سامان، کپڑے اور ضروری اشیا جل کر راکھ ہو گئیں۔
رپورٹس کے مطابق متاثرین میں غریب اور مقامی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں، جبکہ بعض خاندان قانونی شہریت نہ ہونے کے باعث مزید مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔
حکام نے بے گھر افراد کو عارضی ریلیف سینٹر منتقل کر دیا ہے، جہاں انہیں خوراک، رہائش اور بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے بھی متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری امداد اور رہائشی سہولتوں کی فراہمی کو ترجیح دینے کا اعلان کیا ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ساحلی اور گنجان آباد بستیاں آگ جیسے حادثات کے لیے کس قدر حساس ہوتی ہیں، خاص طور پر جب گھروں کی تعمیر کمزور ہو اور امدادی رسائی محدود ہو۔
