ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کے روز سعودی ولی عہد محمد بن سلمان (MBS) سے جدہ میں ملاقات کی۔ یہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ 12 روزہ جنگ کے بعد کسی اعلیٰ ایرانی عہدیدار کا پہلا دورہ سعودی عرب ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باقی نے مذاکرات کو "مثبت اور نتیجہ خیز” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنے سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے پر متفق ہیں۔
جنگ کے باوجود تعلقات میں بہتری کا اشارہ
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان شدید جنگ کے دوران امریکہ نے تین ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کی، جس کے بعد ایک جنگ بندی معاہدہ طے پایا۔
سعودی خبر رساں ادارے SPA کے مطابق، ولی عہد محمد بن سلمان اور عباس عراقچی نے دوطرفہ تعلقات اور تازہ ترین علاقائی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا۔
"ولی عہد نے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کا معاہدہ خطے میں سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے میں مدد دے گا،” SPA نے رپورٹ کیا۔
"انہوں نے یہ بھی دوہرایا کہ سعودی عرب تنازعات کے حل کیلئے سفارتی ذرائع کو ترجیح دیتا ہے۔”
ایرانی وزیر خارجہ نے اسرائیلی جارحیت پر سعودی مؤقف کو سراہا
عراقچی نے سعودی قیادت کی جانب سے اسرائیلی جارحیت کی مذمت پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے اس موقع پر سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور وزیر دفاع خالد بن سلمان سے بھی ملاقاتیں کیں۔
ایران اسرائیل جنگ: پس منظر
یہ جنگ 13 جون کو اس وقت شروع ہوئی جب اسرائیل نے اچانک ایران پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ایران کے کئی اعلیٰ عسکری کمانڈر، جوہری سائنسدان اور سیکڑوں عام شہری مارے گئے۔
جوابی طور پر ایران نے میزائل حملے کر کے اسرائیل میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی۔
بعد ازاں امریکہ کی ثالثی سے جنگ بندی طے پائی۔
عراقچی اور ولی عہد محمد بن سلمان کی یہ ملاقات خطے میں مزید کشیدگی کو روکنے اور ایران سعودی تعلقات کی بحالی کے لیے ایک اہم سنگ میل کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
