لاہور میں عوامی ٹرانسپورٹ سروس اسپیڈو بس کے ایک ملازم کو خاتون مسافر کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور ہراسانی کے واقعے کے بعد ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق واقعے کی شکایت سامنے آنے کے بعد فوری کارروائی کی گئی اور متعلقہ ملازم کو بلیک لسٹ بھی کر دیا گیا تاکہ وہ مستقبل میں کسی پبلک ٹرانسپورٹ سروس میں کام نہ کر سکے۔
حکام نے اس اقدام کو خواتین کے تحفظ اور عوامی ٹرانسپورٹ میں محفوظ ماحول یقینی بنانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر خواتین کی حفاظت اور ٹرانسپورٹ نظام میں سخت نگرانی کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔
عوامی حلقوں نے ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کے ساتھ ہراسانی یا بدسلوکی کے واقعات کی روک تھام کے لیے مزید سخت اقدامات کیے جائیں۔
