کراچی، اپریل 2026 — پاکستانی آل راؤنڈر محمد نواز کو پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کی جانب سے منشیات کے مثبت ٹیسٹ کے بعد باقاعدہ تحقیقات کے دائرے میں لے لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ ٹیسٹ سال کے آغاز میں آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ کے دوران کیے گئے معمول کے اسکریننگ میں سامنے آیا۔
پی سی بی نے تصدیق کی کہ انہیں یہ اطلاع انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) کی جانب سے موصول ہوئی ہے اور بورڈ اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ اگرچہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، لیکن نواز کو وقتی طور پر پاکستان کی نمائندگی سے روک دیا گیا ہے۔
تحقیقات کے اثرات فوری طور پر نواز کی بین الاقوامی مصروفیات پر پڑے۔ ان کا انگلینڈ میں ٹی20 بلاسٹ میں ساری ٹیم کے ساتھ کھیلنے کا منصوبہ منسوخ کر دیا گیا ہے، جس نے شائقین اور ٹیم کے ساتھیوں کو حیران کر دیا۔ محمد نواز، 32 سالہ، پاکستان کی ٹی20 ٹیم میں 98 میچز کھیل چکے ہیں اور پاکستان سپر لیگ (PSL) میں بھی مستقل طور پر حصہ لیتے ہیں، حال ہی میں ملتان سلطانز کی نمائندگی کرتے ہوئے دیکھے گئے۔
پی سی بی نے زور دیا کہ تحقیقات شفاف اور منصفانہ طریقے سے کی جائیں گی، اور یہ ICC اور ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (WADA) کے پروٹوکول کے مطابق ہوں گی۔ پی سی بی کے ترجمان نے کہا، "ہمارا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ تمام کھلاڑی پیشہ ورانہ معیار پر قائم رہیں اور کسی بھی خلاف ورزی کو مناسب طریقے سے حل کیا جائے۔”
یہ کیس پاکستان کرکٹ کے لیے حساس وقت میں سامنے آیا ہے، کیونکہ بورڈ کئی بین الاقوامی ٹی20 سیریز کی تیاری کر رہا ہے۔ پی سی بی نے شائقین سے صبر کرنے کی اپیل کی اور یقین دلایا کہ ٹیم اور کھلاڑیوں کی سالمیت ہمیشہ اولین ترجیح ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ بین الاقوامی کرکٹ میں تفریحی منشیات کا استعمال عام نہیں، لیکن نواز کے معاملے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کھلاڑیوں پر میدان کے اندر اور باہر بڑھتی ہوئی نگرانی ہے۔ کرکٹ کمیونٹی اب پی سی بی کی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کر رہی ہے۔
