بحیرہ احمر — آج یمن کے ساحل کے قریب دو تجارتی جہازوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری پسِ پردہ مذاکرات کا سلسلہ عملی طور پر رک گیا ہے۔
یہ حملے باب المندب کے قریب چند گھنٹوں کے وقفے سے کیے گئے۔ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے یہ سمندری راستہ شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگرچہ دونوں جہازوں پر عملے کے کسی رکن کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی، لیکن حملوں کا یہ ہم آہنگ انداز ظاہر کرتا ہے کہ حوثی فورسز نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے۔ یہ محض اتفاقی کارروائیاں نہیں، بلکہ مخصوص لاجسٹک چینز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
شپنگ انڈسٹری کے لیے پیغام واضح ہے: بین الاقوامی بحری گشت کے باوجود بحیرہ احمر بدستور ایک خطرناک زون ہے۔ آج صبح کی رپورٹس کے بعد ان پانیوں سے گزرنے والے جہازوں کے انشورنس پریمیم میں 15 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے، جس کا بوجھ بالآخر یورپ اور ایشیا میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں عام آدمی پر پڑے گا۔
سفارتی محاذ پر بھی معاملات جمود کا شکار ہیں۔ عمان میں جاری مذاکرات، جن کے بارے میں توقع کی جا رہی تھی کہ وہ عارضی جنگ بندی پر منتج ہوں گے، اب ختم کر دیے گئے ہیں۔ مذاکرات میں شامل ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تازہ ترین حملوں کے بعد بات چیت "غیر معینہ مدت” کے لیے معطل کر دی گئی ہے اور علاقائی ثالثوں اور تہران سے منسلک گروہوں کے درمیان رابطے منقطع ہو چکے ہیں۔
تہران نے ان تازہ ترین واقعات میں براہ راست ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ تاہم، انٹیلی جنس تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے ملنے والے ڈرونز کے پرزے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں، جن کے بارے میں ماہرین تصدیق کرتے ہیں کہ ان کا تعلق ایرانی سپلائی لائنز سے ہے۔
امریکی بحریہ کے پانچویں فلیٹ نے اپنے گشتی دائرہ کار میں اضافہ تو کیا ہے، لیکن زمینی سطح پر موجود کمانڈرز تسلیم کرتے ہیں کہ اتنے وسیع سمندری راستے پر ہر تجارتی جہاز کی حفاظت کرنا ایک ناممکن کام ہے۔ وہ ایک ایسے حریف کے خلاف دفاعی جنگ لڑ رہے ہیں جسے عالمی منڈیوں کو درہم برہم کرنے کے لیے صرف ایک کامیاب حملے کی ضرورت ہے۔
بحیرہ احمر پر چھایا دھواں ابھی چھٹا نہیں ہے، لیکن سمندری تحفظ کا مستقبل تاریک دکھائی دے رہا ہے۔ بڑی شپنگ کمپنیوں نے اب اپنے جہازوں کو کیپ آف گڈ ہوپ (افریقہ کا طویل راستہ) کے ذریعے موڑنے کی ہدایت کر دی ہے، جس سے نہ صرف ترسیل میں ہفتوں کی تاخیر ہوگی بلکہ ایندھن کے اخراجات میں بھی لاکھوں ڈالر کا اضافہ ہوگا۔ یہ تنازع اب محض علاقائی جھڑپوں سے نکل کر عالمی معیشت کے لیے ایک بنیادی خطرہ بن چکا ہے، جس کے فوری حل کے آثار معدوم ہیں۔
