کولمبو: بھارت کے ہاتھوں عبرتناک شکست اور ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے بعد سری لنکا میں کرکٹ کا بحران سنگین رخ اختیار کر گیا ہے۔ وزارتِ کھیل نے کرکٹ بورڈ کے تمام عہدیداروں کو فوری طور پر مستعفی ہونے کا حکم دے دیا ہے۔
یہ محض ایک شکست نہیں بلکہ سری لنکن کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا انتظامی بحران ہے۔ وزیرِ کھیل روشن رانا سنگھے نے واضح کر دیا ہے کہ موجودہ قیادت اب کھیل چلانے کا ‘اخلاقی حق’ کھو چکی ہے۔ ٹیم کی ناقص کارکردگی پر عوام اس قدر بپھرے ہوئے ہیں کہ کولمبو میں بورڈ کے ہیڈ کوارٹر کے باہر پولیس تعینات کرنی پڑی۔
روشن رانا سنگھے نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘عہدیداروں کو خود ہی دستبردار ہو جانا چاہیے’۔ بھارت کے خلاف 302 رنز کی شکست اور پوری ٹیم کا محض 55 رنز پر ڈھیر ہو جانا وہ آخری حد تھی جس نے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا۔ بورڈ پر برسوں سے کرپشن اور مالی بدانتظامی کے الزامات لگ رہے تھے، لیکن میدان میں ٹیم کی مسلسل ناکامی نے تابوت میں آخری کیل کا کام کیا۔
بحران کی شدت کو دیکھتے ہوئے بورڈ کے سیکرٹری موہن ڈی سلوا آج صبح اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے، تاہم ایگزیکٹو کمیٹی کے دیگر ارکان تاحال اپنی کرسیوں سے چمٹے ہوئے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ بورڈ کے ارکان اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
حکومت کا یہ سخت موقف سری لنکن کرکٹ کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ساتھ تصادم کی راہ پر ڈال سکتا ہے۔ آئی سی سی کسی بھی ملک کے کرکٹ بورڈ میں سیاسی مداخلت برداشت نہیں کرتی۔ اگر وزیرِ کھیل نے زبردستی بورڈ کو تحلیل کیا تو سری لنکا پر عالمی پابندی لگ سکتی ہے۔ اس پابندی کا مطلب ہے کہ ملک سے انڈر 19 ورلڈ کپ کی میزبانی چھن جائے گی اور آئی سی سی کی جانب سے ملنے والے تمام فنڈز روک دیے جائیں گے۔
وزارتِ کھیل نے بورڈ کو دیوار سے تو لگا دیا ہے لیکن یہ ایک بڑا جوا ہے۔ اگر بورڈ کے ارکان نے رضاکارانہ طور پر استعفے نہ دیے تو حکومت کو دو میں سے ایک راستہ چننا ہوگا: یا تو اس انتظامیہ کو برداشت کریں یا پھر عالمی پابندی کا خطرہ مول لیں۔
فی الحال بورڈ کی ساکھ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، لیکن وہ اب بھی کام کر رہے ہیں۔ آنے والے چند روز یہ طے کریں گے کہ کیا حکومت بورڈ میں بڑی تبدیلی لانے میں کامیاب ہوتی ہے یا سری لنکن کرکٹ ایک ایسی عالمی معطلی کی طرف بڑھتی ہے جس کا وہ اس وقت متحمل نہیں ہو سکتا۔
