اسلام آباد: پاکستان نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں رکوانے اور کشمیری سیاسی رہنماؤں، کارکنوں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے نمائندوں کی رہائی کے لیے کردار ادا کرے۔
یہ مطالبہ پاکستان کی اس سفارتی کوشش کا حصہ ہے جس کے تحت اسلام آباد مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر دوبارہ نمایاں رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد وہاں سیاسی فضا مزید محدود ہوئی ہے۔
دفتر خارجہ نے بارہا الزام لگایا ہے کہ بھارتی حکام سیکیورٹی قوانین، چھاپوں اور گرفتاریوں کے ذریعے کشمیری آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک حالیہ بریفنگ میں پاکستان نے کشمیری سیاسی رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا، جن میں آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کے نام بھی شامل ہیں۔
اسلام آباد نے مقبوضہ کشمیر میں مبینہ جبری گرفتاریوں، میڈیا پر پابندیوں اور سول سوسائٹی پر دباؤ پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ ایک سرکاری بیان میں اقوام متحدہ کے ماہرین کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ تقریباً 2,800 افراد، جن میں صحافی، طلبہ اور انسانی حقوق کے کارکن شامل ہیں، گرفتاری یا حراست کا سامنا کر چکے ہیں۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو کشمیر کو صرف پاکستان اور بھارت کا دوطرفہ معاملہ نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ اسے انسانی حقوق اور عالمی قانون کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ پاکستانی حکام کے مطابق امریکا، بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات کے باعث، نئی دہلی پر بنیادی آزادیاں بحال کرنے، سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دینے، اختلافی آوازوں پر پابندیاں ختم کرنے اور سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے دباؤ ڈال سکتا ہے۔
پاکستانی مطالبے میں یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، مسرت عالم، آسیہ اندرابی اور دیگر کشمیری قیدیوں کی رہائی بھی شامل ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ ان میں سے کئی مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں، جبکہ بھارت کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں قومی سلامتی اور انسداد دہشت گردی سے متعلق ہیں۔
مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے حساس تنازعات میں سے ایک ہے۔ دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان اس خطے پر جنگیں ہو چکی ہیں، جبکہ 2019 کے بھارتی اقدامات کے بعد سفارتی تعلقات مزید کشیدہ ہوئے۔ بھارت جموں و کشمیر کو اپنا اندرونی معاملہ قرار دیتا ہے، جبکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ یہ تنازع اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہیے۔
امریکا ماضی میں بھی کشمیر میں گرفتاریوں اور پابندیوں پر تشویش ظاہر کر چکا ہے۔ 2019 میں ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بھارت پر زور دیا تھا کہ وہ زیر حراست افراد کو جلد رہا کرے، بنیادی آزادیاں بحال کرے اور قانونی طریقہ کار کا احترام یقینی بنائے۔
پاکستان کے لیے یہ مطالبہ صرف قیدیوں کی رہائی تک محدود نہیں۔ یہ کشمیر کو عالمی سفارتی بحث میں واپس لانے کی کوشش بھی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب علاقائی بحران، تجارتی مفادات اور اسٹریٹجک شراکت داریاں اکثر اس مسئلے کو پیچھے دھکیل دیتی ہیں۔
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اس وقت تک مشکل رہے گا جب تک کشمیریوں کو بنیادی حقوق اور سیاسی آواز نہیں دی جاتی۔ پاکستان کا پیغام واضح ہے: امریکا بھارت پر زیادہ مؤثر دباؤ ڈالے، صرف دور سے تحمل کی اپیل نہ کرے۔
