کراچی کے ایک تاجر نے کروڑوں روپے کے قرضوں سے بچنے کے لیے اپنی ہی موت کا ڈرامہ رچا لیا۔ پولیس کے مطابق ملزم کئی ہفتوں سے روپوش تھا اور اس نے سرمایہ کاروں کو جھانسہ دے کر رقم ہڑپنے کے بعد خود کو "مردہ” ظاہر کر دیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق، جوڑیا بازار کا یہ تاجر گزشتہ ماہ اچانک لاپتہ ہو گیا۔ خاندان نے اسے اغوا کا شکار قرار دیا، جبکہ ملزم نے ایک لاوارث شخص کی لاش کو اپنی لاش کے طور پر پیش کرنے کی سازش کی تاکہ پولیس تفتیش قتل کے مقدمے میں الجھ کر رہ جائے۔ یہ ایک سوچی سمجھی چال تھی تاکہ قرض خواہوں سے وقت مل سکے۔
ایک سینئر پولیس افسر نے منگل کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "اسے لگا کہ مرنے کا ڈرامہ کر کے وہ اپنے تمام مالی معاملات ختم کر دے گا، مگر وہ اپنے پیچھے چھوڑے گئے ڈیجیٹل نقوش کو مٹا نہیں پایا۔”
پولیس کی تفتیش تب رنگ لائی جب اغوا کی رپورٹ میں تضادات سامنے آئے۔ مالیاتی ریکارڈ سے پتہ چلا کہ تاجر نے غائب ہونے سے کچھ دن قبل اپنے اثاثے فروخت کیے اور رقم آف شور اکاؤنٹس میں منتقل کی۔ ادھر خاندان اسے سٹریٹ کرائم کا شکار بتاتا رہا، لیکن پولیس نے اسے شہر کے مضافات میں ایک کرائے کے فلیٹ سے گرفتار کر لیا۔
اس تاجر نے غلہ اور چینی کے کاروبار میں منافع کا جھانسہ دے کر درجنوں شہریوں کی جمع پونجی لوٹی تھی۔ ایک متاثرہ سرمایہ کار، جس نے پچاس لاکھ روپے گنوائے، نے اسے "اعتماد کا بدترین استحصال” قرار دیا ہے۔
ملزم اس وقت پولیس کی حراست میں ہے اور اس پر فراڈ اور جھوٹے ثبوت گھڑنے کے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ پولیس وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ساتھ مل کر غائب شدہ رقم کی بازیابی کے لیے کام کر رہی ہے۔
متاثرین کے لیے یہ گرفتاری کسی ریلیف سے کم ہے، کیونکہ تاجر کی "موت” تو محض ایک ڈرامہ نکلی، مگر اس کے ہاتھوں ہونے والی مالی تباہی اب ایک تلخ حقیقت ہے۔
