وفاقی حکومت نے ملک کے آئل ریفائننگ شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے نئی آئل ریفائننگ پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔ اس پالیسی کا مقصد مقامی ریفائنریوں کی استعداد کار میں اضافہ، جدید ٹیکنالوجی کا فروغ، معیاری ایندھن کی پیداوار اور درآمدی پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم کرنا ہے۔
حکومتی حکام کے مطابق نئی پالیسی کے تحت ملک کی موجودہ آئل ریفائنریوں کو اپنی تنصیبات کو جدید بنانے، پیداواری صلاحیت بڑھانے اور بین الاقوامی ماحولیاتی معیارات کے مطابق کم سلفر والے صاف ایندھن کی تیاری کی ترغیب دی جائے گی۔ اس اقدام سے نہ صرف توانائی کے شعبے کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی بلکہ ملکی معیشت کو بھی طویل المدتی فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی بیشتر آئل ریفائنریاں کئی دہائیوں پرانی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہیں، جس کے باعث وہ عالمی معیار کے مطابق اعلیٰ معیار کا ایندھن تیار کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتی رہی ہیں۔ نئی پالیسی سے ریفائنریوں کو جدید مشینری اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کا موقع ملے گا، جس سے پیٹرول، ڈیزل اور دیگر قیمتی پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار میں اضافہ متوقع ہے۔
پالیسی کا ایک اہم مقصد فرنس آئل کی پیداوار میں کمی اور پیٹرول، ڈیزل اور دیگر ہلکی پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار میں اضافہ کرنا بھی ہے، کیونکہ ملک میں ان ایندھن کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس سے خام تیل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے گا اور درآمدی ریفائن شدہ ایندھن پر انحصار بھی کم ہوگا۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مقامی ریفائنریاں اپنی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہیں تو پاکستان کے درآمدی اخراجات میں کمی آ سکتی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہوگا اور توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ ریفائنریوں کی توسیع سے نئی سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور صنعتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
ماہرین ماحولیات کے مطابق نئی پالیسی کے نتیجے میں کم سلفر والے صاف ایندھن کی پیداوار بڑھے گی، جس سے گاڑیوں سے خارج ہونے والے مضر دھوئیں میں کمی آئے گی اور بڑے شہروں میں فضائی آلودگی کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پالیسی کے حقیقی فوائد اسی صورت میں حاصل ہوں گے جب اس پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا جائے، سرمایہ کاری بروقت کی جائے اور حکومت و پیٹرولیم صنعت کے درمیان مؤثر تعاون برقرار رکھا جائے۔
نئی آئل ریفائننگ پالیسی کے ممکنہ اثرات
- مقامی آئل ریفائنریوں کی جدید خطوط پر اپ گریڈیشن۔
- عالمی معیار کے مطابق صاف اور کم سلفر والے ایندھن کی پیداوار میں اضافہ۔
- درآمدی ریفائن شدہ پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار میں کمی۔
- توانائی کے شعبے میں خود انحصاری اور ملکی توانائی کے تحفظ میں بہتری۔
- مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہونے کا امکان۔
- روزگار اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافے کی توقع۔
- فضائی آلودگی میں کمی اور ماحول دوست ایندھن کے استعمال کو فروغ۔
حکومت کا کہنا ہے کہ نئی آئل ریفائننگ پالیسی ملک کے توانائی کے شعبے کو جدید، مؤثر اور عالمی معیار کے مطابق بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس پالیسی پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا گیا تو یہ نہ صرف توانائی کے شعبے بلکہ مجموعی قومی معیشت کے لیے بھی مثبت نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
