لاہور — جوہر ٹاؤن کے رہائشی ایک نوجوان نے اپنے ہی گھر والوں سے لاکھوں روپے ہتھیا کر قرض اتارنے کے لیے اپنی ہی گمشدگی کا ڈرامہ رچایا، مگر پولیس کی ڈیجیٹل ٹریکنگ نے چند گھنٹوں میں حقیقت بے نقاب کر دی۔
ملزم، جس کی شناخت 28 سالہ محمد آصف کے نام سے ہوئی ہے، منگل کی سہ پہر گھر سے نکلا اور پھر غائب ہو گیا۔ کچھ ہی دیر بعد اس کے اہل خانہ کو ایک نامعلوم نمبر سے کال موصول ہوئی جس میں اغوا کاروں نے بازیابی کے عوض 20 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا۔ دھمکی دی گئی کہ اگر رقم مقررہ وقت تک نہ پہنچی تو آصف کو مار دیا جائے گا۔
پولیس کے تفتیشی افسر کے مطابق، خاندان والے خوفزدہ تھے اور رقم کا بندوبست کرنے کے لیے رشتہ داروں سے قرض مانگ رہے تھے۔ لیکن پولیس کی اسپیشل یونٹ نے جب ٹیکنیکل بنیادوں پر کال کو ٹریس کیا تو مقام کسی دور دراز علاقے کے بجائے گھر سے محض چند کلومیٹر دور ایک سستا ہوٹل نکلا۔
جب پولیس نے چھاپہ مارا تو آصف کمرے میں اکیلا موجود تھا۔ تفتیش کے دوران اس نے اعتراف کیا کہ وہ کئی لوگوں کا مقروض تھا اور اس کے پاس رقم لوٹانے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا۔
"اس نے سوچا تھا کہ وہ خود کو مغوی اور اغوا کار دونوں بنا کر آسانی سے پیسے نکلوا لے گا،” تفتیشی افسر نے بتایا۔
ملزم اس وقت پولیس کی حراست میں ہے اور اس کے خلاف فراڈ اور عوام کو گمراہ کرنے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایک جذباتی ڈرامہ رچانے والا یہ شخص اب قانونی شکنجے میں ہے، جبکہ اس کا خاندان اس شرمناک صورتحال کے بعد صدمے اور سماجی دباؤ کا شکار ہے۔
