جماعتِ اسلامی نے بارہ ربیع الاول کے فوراً بعد ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ احتجاج حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی اور قیمتوں میں اضافے کے خلاف کیا جا رہا ہے، جسے جماعتِ اسلامی نے عوام پر "معاشی حملہ” قرار دیا ہے۔
امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ حکومتی معاشی پالیسیوں نے متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ ہڑتال کا مقصد تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور عام شہریوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے حکومتی فیصلوں کے خلاف مزاحمت کرنا ہے۔
ہڑتال کی تاریخ کا انتخاب انتہائی سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے۔ بارہ ربیع الاول کے مذہبی اجتماعات کے بعد ہڑتال کا اعلان اس لیے کیا گیا تاکہ عوامی عقیدت اور مذہبی سرگرمیوں میں کوئی خلل نہ پڑے، جبکہ ورکنگ ڈیز میں احتجاج سے حکومت پر زیادہ دباؤ ڈالا جا سکے۔
حکومتی حلقوں کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ وفاقی حکومت پہلے ہی آئی ایم ایف کے سخت شرائط کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے اور پیٹرولیم لیوی کو بجٹ خسارے کو کم کرنے کا اہم ذریعہ سمجھتی ہے۔ وزراء کا موقف ہے کہ ان اقدامات کے بغیر معاشی استحکام ناممکن ہے، لیکن یہ استدلال اب عوام میں پذیرائی نہیں پا رہا۔
لاہور کی ایک بڑی مارکیٹ کے تاجر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، "حکومت ہمیں صبر کا مشورہ دیتی ہے، لیکن بجلی کے بل اور پیٹرول کی قیمتیں ہماری قوتِ خرید سے باہر ہو چکی ہیں۔ اب مزید خاموش رہنا ممکن نہیں رہا۔”
جماعتِ اسلامی کی حالیہ حکمت عملی میں ایک واضح تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ حافظ نعیم الرحمٰن کی قیادت میں جماعت اب روایتی مذہبی بیانیے سے نکل کر شہری معاشی مسائل پر زیادہ توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ مہنگائی اور یوٹیلیٹی بلوں کے خلاف یہ احتجاج جماعت کے لیے اپنی سیاسی ساکھ کو دوبارہ مستحکم کرنے کا ایک موقع ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا تاجر برادری اس ہڑتال میں بھرپور ساتھ دیتی ہے یا نہیں۔ ماضی میں بھی شٹر ڈاؤن ہڑتالوں کی کامیابی کا دارومدار تاجر تنظیموں کے تعاون پر رہا ہے۔ اگر منڈیاں اور بازار مکمل بند رہے تو یہ حکومتی معاشی پالیسیوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہوگا۔
اگر حکومت نے اپنے معاشی فیصلوں پر نظرِ ثانی نہ کی تو یہ ہڑتال محض ایک دن کا احتجاج نہیں بلکہ آنے والے دنوں میں ایک وسیع تر عوامی تحریک کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
