بشکیک: پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے داخلہ اور عوامی سلامتی کے خصوصی اجلاس میں دہشت گردی، سائبر جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ سمیت خطے کو درپیش پیچیدہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے رکن ممالک کے درمیان مزید مؤثر اور مربوط تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات میں سیکیورٹی خطرات کی نوعیت مزید پیچیدہ ہو چکی ہے، جس کے باعث ایس سی او ممالک کو مشترکہ حکمتِ عملی، معلومات کے تبادلے اور ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور سائبر جرائم جیسے مسائل کسی ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے مشترکہ چیلنج ہیں۔
محسن نقوی نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک نے امن و استحکام کے قیام کے لیے بھاری انسانی اور معاشی قیمت ادا کی ہے۔ انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی اور منظم جرائم کے خلاف اجتماعی اقدامات کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ خطے میں پائیدار امن اور ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس کے دوران شرکاء نے علاقائی سلامتی، سرحد پار جرائم، منشیات کی غیر قانونی تجارت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ابھرنے والے خطرات پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ رکن ممالک نے سیکیورٹی تعاون کے موجودہ فریم ورک کو مزید مؤثر بنانے اور نئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی رابطوں میں اضافے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
پاکستان نے اس موقع پر ایس سی او کو علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے تنظیم کے مقاصد اور اصولوں سے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا۔ پاکستانی وفد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اسلام آباد رکن ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ خطرات کے مقابلے اور علاقائی ترقی کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب خطے کو دہشت گردی، سائبر حملوں اور دیگر غیر روایتی سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے، جس کے باعث ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان قریبی تعاون کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
