عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں منگل کو 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کر گئیں، جو مئی کے وسط کے بعد سے بلند ترین سطح ہے۔ یہ اضافہ عالمی سطح پر سپلائی میں رکاوٹوں اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی کا براہِ راست نتیجہ ہے۔
اس خبر کے بعد عالمی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی۔ برینٹ کروڈ کی قیمت ایشیائی ٹریڈنگ کے دوران 100.42 ڈالر تک پہنچی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 97 ڈالر کے قریب ٹریڈ کرتا رہا۔ یہ قیمتیں ان مرکزی بینکوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں جو گزشتہ ایک سال سے افراطِ زر کو قابو کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
قیمتوں میں اس اضافے کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ سعودی عرب اور روس کی قیادت میں اوپیک پلس کی جانب سے پیداوار میں کٹوتیوں نے عالمی ذخائر کو توقع سے زیادہ تیزی سے کم کیا ہے۔ دوسری جانب، بحیرہ شمالی میں پائپ لائن کی مرمت اور خلیجی خطے سے آنے والے تلخ بیانات نے سرمایہ کاروں کو مزید غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر دیا ہے۔
توانائی کے ماہر مارکس تھورن کا کہنا ہے کہ "مارکیٹ اب موسم سرما کے دوران تیل کی قلت کو مدنظر رکھ کر قیمتیں طے کر رہی ہے۔ یہ صرف سپلائی میں کمی کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ اب ہمارے پاس کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی اضافی ذخیرہ موجود نہیں ہے۔”
صارفین کے لیے اس کا اثر چند ہفتوں میں پیٹرول پمپوں پر نظر آنا شروع ہو جائے گا۔ ریفائنریز پہلے ہی خام تیل کی بلند قیمتوں کے دباؤ میں ہیں، اور یہ اخراجات اب براہِ راست ہول سیل مارکیٹ پر منتقل کیے جا رہے ہیں۔ اگر قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو ٹرانسپورٹ اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں مہنگائی کی ایک نئی لہر آنے کا خدشہ ہے، جس سے گزشتہ چند مہینوں میں افراطِ زر میں ہونے والی معمولی بہتری بھی ماند پڑ سکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے تاحال اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو سے مزید تیل نکالنے کا اعلان نہیں کیا، جو گزشتہ سال قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جانے والا ایک اہم حربہ تھا۔ تاہم، اسٹریٹجک ذخائر دہائیوں کی کم ترین سطح پر ہونے کے باعث بائیڈن انتظامیہ کے پاس مداخلت کے مواقع بہت محدود ہیں۔
ٹریڈرز کی نظریں اب ویانا میں ہونے والے اوپیک پلس کے آئندہ اجلاس پر ہیں۔ اگر اتحاد نے پیداوار میں کٹوتیوں کو نرم کرنے کا اشارہ دیا تو قیمتوں میں کچھ کمی آ سکتی ہے، لیکن موجودہ حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک تین ہندسوں والی قیمتوں پر ہی مطمئن ہیں۔
سستی توانائی کا دور اب قصہ پارینہ بن چکا ہے، اور عالمی معیشت کو اب اس کی بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔
