سندھ حکومت نے تعلیمی سال 2026–27 کے لیے نجی اسکولوں کی فیس وصولی کا نیا طریقۂ کار جاری کیا ہے، جس کا مقصد بظاہر فیس کے نظام میں زیادہ شفافیت لانا اور والدین کی شکایات کم کرنا ہے۔ تازہ رپورٹوں کے مطابق صوبے میں نیا تعلیمی سال یکم اپریل 2026 سے شروع ہوا، جبکہ میٹرک کے امتحانات 10 اپریل 2026 سے جاری ہیں۔
نئی ہدایات کے تحت نجی اسکولوں کو کہا گیا ہے کہ میٹرک کے طلبہ سے مارچ 2026 کے بعد فیس وصول نہ کی جائے۔ اسی طرح بورڈ امتحانات میں شریک طلبہ سے اضافی فیس لینے پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔ یہ نکتہ کافی اہم ہے، کیونکہ ہر سال امتحانات کے موسم میں والدین کی ایک بڑی شکایت یہی رہتی ہے کہ بعض ادارے تعلیمی سرگرمی کم ہونے کے باوجود مکمل یا اضافی فیس مانگتے ہیں۔
پری پرائمری سے جماعت نہم تک کے طلبہ کے لیے پالیسی کچھ مختلف رکھی گئی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق اسکول جون اور جولائی کی الگ الگ فیس پرچیاں اپریل اور مئی میں جاری کر سکیں گے۔ جون کی پرچی 30 جون تک اور جولائی کی پرچی 31 جولائی تک قابلِ ادائیگی ہوگی۔ مطلب یہ کہ حکومت نے ایک ساتھ گرمیوں کی فیس مانگنے کے بجائے اسے الگ اور واضح شکل دینے کی کوشش کی ہے، تاکہ بعد میں تنازع کم ہو۔
کچھ رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جماعت نہم سے دہم میں جانے والے طلبہ کے لیے الگ فیس ڈھانچہ یا شیڈول وضع کیا گیا ہے، تاکہ اس عبوری مرحلے میں بلنگ سے متعلق ابہام نہ رہے۔ اگرچہ اس حصے کی مکمل سرکاری تفصیل ابھی تمام خبروں میں یکساں وضاحت سے سامنے نہیں آئی، لیکن مجموعی اشارہ یہی ہے کہ محکمہ تعلیم فیس شیڈول کو زیادہ منظم بنانا چاہتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ معاملہ بالکل نیا نہیں۔ اس سے پہلے بھی سندھ کے محکمہ تعلیم کی جانب سے نجی اسکولوں کو ایڈوانس فیس یا مقررہ وقت سے پہلے اضافی رقم لینے سے روکا گیا تھا، اور الگ ماہانہ واؤچرز جاری کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ اس پس منظر کو دیکھیں تو تازہ ہدایات ایک بالکل نئی پالیسی کم اور پرانی شکایات کے جواب میں زیادہ سخت یا زیادہ واضح نفاذ کی کوشش زیادہ لگتی ہیں۔
تاہم یہاں ایک باریک نکتہ بھی ہے۔ کچھ تازہ خبروں کی زبان سے یہ تاثر بنتا ہے کہ اسکول جون اور جولائی کی فیس کی پرچیاں پہلے جاری کر سکتے ہیں، جبکہ پرانی ہدایات میں زور اس بات پر تھا کہ غیر ضروری پیشگی وصولی نہ ہو۔ اس لیے عملی فرق غالباً یہ ہے کہ واؤچر جاری کرنا اور فیس کی مقررہ آخری تاریخ الگ چیزیں ہیں۔ میں یہ بات بطور محتاط نتیجہ کہہ رہا ہوں، کیونکہ سرکاری ویب پورٹل تو دستیاب ہے مگر اس خاص سرکلر کا اصل متن اس جائزے کے دوران واضح طور پر سامنے نہیں آیا۔
والدین کے لیے فوری مطلب سادہ ہے: میٹرک کے طلبہ سے مارچ کے بعد فیس نہیں لی جانی چاہیے، جبکہ دیگر کلاسوں کے لیے جون اور جولائی کی الگ پرچیاں ہونی چاہییں، نہ کہ ایک مبہم یا یکمشت سمر بل۔ اور اسکولوں کے لیے پیغام بھی کافی صاف ہے: فیس وصولی اب پہلے سے زیادہ قابلِ جانچ، زیادہ واضح اور والدین کے لیے سمجھنے میں آسان ہونی چاہیے۔ اصل امتحان، حسبِ معمول، نفاذ کا ہوگا۔
