کراچی — وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے شہر کے صنعتی علاقے میں ایک گودام پر چھاپہ مار کر زندگی بچانے والی اینٹی بائیوٹکس اور درد کش ادویات کی بڑے پیمانے پر تیاری میں ملوث نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا۔
یہ کارروائی انٹیلی جنس یونٹس کی کئی ہفتوں کی نگرانی کے بعد کی گئی۔ حکام کو معلوم ہوا تھا کہ صنعتی علاقے میں خام کیمیکل بڑی مقدار میں پہنچایا جا رہا ہے۔ چھاپے کے دوران ایف آئی اے کو وہاں ہائی اسپیڈ ٹیبلٹنگ مشینیں، مشہور فارماسیوٹیکل برانڈز کے جعلی پیکنگ میٹریل اور ہزاروں کی تعداد میں ایسی ادویات ملیں جو مارکیٹ میں سپلائی کے لیے تیار تھیں۔
یہ نیٹ ورک محض لیبل چھاپنے تک محدود نہیں تھا بلکہ یہ گروہ ادویات کی تیاری میں غیر معیاری کیمیکل استعمال کر رہا تھا جو دیکھنے میں اصلی دواؤں جیسے لگتے تھے، مگر ان کا کوئی طبی فائدہ نہیں تھا۔
کراچی جیسے شہر میں، جہاں صحت کا نظام پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے، اس انکشاف نے مریضوں کی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ بہت سے مریض اپنی جمع پونجی خرچ کر کے ایسی ادویات خرید رہے تھے جو نہ صرف بے اثر تھیں بلکہ کسی زہریلے ردعمل کا باعث بھی بن سکتی تھیں۔
چھاپے میں شامل ایک ایف آئی اے افسر نے بتایا کہ "یہ کوئی چھوٹا آپریشن نہیں تھا۔ ان کے پاس جدید پرنٹنگ پلیٹس اور مکسنگ مشینیں موجود تھیں، اور ان کا سپلائی نیٹ ورک شہر کی چھوٹی بڑی فارمیسیوں تک پھیلا ہوا تھا۔ اب ہم ان خام مال فراہم کرنے والوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”
ادویات کے ریگولیٹرز نے ہنگامی الرٹ جاری کرتے ہوئے فارمیسیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اسٹاک کو متعلقہ کمپنیوں کے بیچ نمبرز سے چیک کریں۔ تاہم، مارکیٹ میں موجود جعلی ادویات کی بڑی تعداد کے پیشِ نظر مکمل ریکال ایک مشکل چیلنج ہے۔
کراچی میں رواں سال جعلی ادویات کے خلاف یہ تیسری بڑی کارروائی ہے۔ یہ بار بار کے واقعات سپلائی چین کی نگرانی میں موجود نقائص کو ظاہر کرتے ہیں۔ اگرچہ کل کی گرفتاریوں سے سپلائی لائن وقتی طور پر ٹوٹ گئی ہے، لیکن یہ سوال بدستور اپنی جگہ ہے کہ ایسی فیکٹریاں شہر کے وسط میں کیسے کام کرتی رہیں۔
ملزمان حراست میں ہیں اور تفتیش جاری ہے۔ ان ہزاروں شہریوں کے لیے جو انجانے میں یہ ادویات خرید چکے ہیں، ان کی صحت پر پڑنے والے اثرات کا اندازہ آنے والے ہفتوں میں ہی ہو سکے گا۔
