تھامے، نیپال — ہمالیہ کے بلند و بالا پہاڑوں میں واقع گلیشیر کے اچانک ٹوٹنے سے نیپال کے دور افتادہ گاؤں ’تھامے‘ میں تباہ کن سیلابی ریلہ آ گیا۔ جمعہ کو پیش آنے والے اس واقعے نے سکون سے بستی اس وادی کو چند منٹوں میں کھنڈرات میں تبدیل کر دیا، جس کے بعد مقامی آبادی اپنی جان بچا کر محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے پر مجبور ہوئی۔
گلیشیر کے ٹوٹنے سے پیدا ہونے والے پانی اور ملبے کے زوردار ریلے نے راستے میں آنے والے ہر گھر، اسکول اور کلینک کو تہس نہس کر دیا۔ مقامی افراد کی جانب سے ریکارڈ کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پانی کی ایک کالی اور تیز لہر گاؤں کے اوپر سے گزری، جس نے پلک جھپکتے ہی بنیادی ڈھانچے کو زمین بوس کر دیا۔ حکام کے مطابق کم از کم 20 گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں، جبکہ مال مویشیوں کا بھی بھاری نقصان ہوا ہے۔
ماہرینِ ماحولیات طویل عرصے سے اس خطرے کے بارے میں تنبیہ کر رہے تھے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے ہمالیہ کے گلیشیر تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے پہاڑوں کے اوپر غیر مستحکم جھیلیں بن رہی ہیں۔ جب ان جھیلوں کے قدرتی بند ٹوٹتے ہیں، تو اسے ‘گلیشیر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ’ کہا جاتا ہے۔ یہ واقعات اتنے اچانک ہوتے ہیں کہ مقامی لوگوں کو بچاؤ کے لیے وقت ہی نہیں ملتا۔
ایک مقامی رہائشی نے ملبے کے ڈھیر کے پاس کھڑے ہو کر بتایا، "ہم پہاڑوں کے دامن میں پیدا ہوئے اور یہیں پلے بڑھے، لیکن یہ منظر خوفناک تھا۔ یہ کسی عام ندی کا سیلاب نہیں تھا، ایسا لگ رہا تھا جیسے پورا پہاڑ ہی ٹوٹ کر ہم پر آ گرا ہو۔”
نیپالی فوج نے امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے، لیکن خراب موسم اور دشوار گزار راستے امدادی ٹیموں کے لیے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ہیلی کاپٹروں کی پروازیں محدود ہیں، جس کی وجہ سے متاثرین کو فوری طبی امداد اور خوراک پہنچانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی شیرپا گائیڈز اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔
یہ سانحہ نیپال کے لیے ایک بڑی تنبیہ ہے۔ اگرچہ کاربن کے اخراج میں نیپال کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، مگر ماحولیاتی تبدیلیوں کی قیمت اسے سب سے زیادہ چکانا پڑ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ہمالیہ کے سلسلے میں 2,000 سے زائد ایسی جھیلیں موجود ہیں جو کسی بھی وقت خطرہ بن سکتی ہیں۔ تھامے کا یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آنے والے وقت میں ایسے واقعات کی شدت اور تعدد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اب جبکہ پانی کا بہاؤ کم ہو رہا ہے، گاؤں کے مکینوں کے سامنے سوال یہ ہے کہ کیا یہ وادی دوبارہ بسنے کے قابل ہے یا نہیں۔ فی الحال، پوری توجہ بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی پر مرکوز ہے، جن کے پاس اب صرف ملبے کے ڈھیر اور کھوئے ہوئے گھروں کی یادیں باقی ہیں۔
