امریکی بحریہ کے طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس ابراہام لنکن’ کیریئر اسٹرائیک گروپ کی نو ماہ طویل تعیناتی نے امریکی کانگریس میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ طویل عرصے تک سمندر میں رہنے کے باعث عملے کی شدید جسمانی تھکاوٹ اور جہاز کے آلات پر پڑنے والے دباؤ کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد قانون سازوں نے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔
یہ اسٹرائیک گروپ حال ہی میں مشرق وسطیٰ اور انڈو پیسیفک کے خطوں میں طویل قیام کے بعد واپس لوٹا ہے۔ اگرچہ امریکی بحریہ کا موقف ہے کہ یہ مشن علاقائی استحکام اور دفاعی توازن کے لیے ناگزیر تھا، تاہم ریکارڈ ساز طویل مدت تک جاری رہنے والی اس تعیناتی کی انسانی قیمت اب ‘ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی’ کے لیے ایک بڑا تنازع بن چکی ہے۔
کمیٹی کے ایک معاون نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم اپنے ملاحوں اور بحری جہازوں کو برداشت کی حد سے زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔” کانگریس اب بحریہ سے ان داخلی ریکارڈز کی تفصیلات طلب کر رہی ہے جن میں عملے کے آرام کے اوقات، دیکھ بھال (مینٹیننس) میں تاخیر، اور تعیناتی کے آخری تین ماہ کے دوران ذہنی صحت سے متعلق پیش آنے والے واقعات شامل ہیں۔
عملے کی تھکاوٹ کے علاوہ، جہاز کی اپنی حالت بھی تشویشناک ہے۔ سمندر میں معمول سے زیادہ قیام کے باعث جہاز کے ڈھانچے اور فلائٹ ڈیک کے آلات پر شدید دباؤ پڑتا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چھ ماہ کی معیاری مدت سے زیادہ جہاز کو تعینات رکھنے سے ایک ایسا ‘مینٹیننس خسارہ’ پیدا ہوتا ہے جس کی تلافی کے لیے ڈرائی ڈاک میں برسوں لگ سکتے ہیں۔
بحریہ کی قیادت اکثر ان طویل تعیناتیوں کو عالمی خطرات کے پیش نظر ضروری قرار دیتی ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ علاقائی موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے کیریئر اسٹرائیک گروپس پر انحصار کرنے سے بیڑے کی صلاحیتیں تیزی سے ختم ہو رہی ہیں، اور پینٹاگون کے پاس ان کی مرمت یا تبدیلی کے لیے درکار وسائل کی کمی ہے۔
یہ تحقیقات امریکی بحریہ کے موجودہ آپریشنل نظام پر بڑھتے ہوئے سوالات کا حصہ ہیں۔ پینٹاگون اس وقت محدود تعداد میں دستیاب طیارہ بردار جہازوں کو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے مختلف جنگی کمانڈروں کی ضروریات کے مطابق تقسیم کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ یو ایس ایس ابراہام لنکن کا عملہ اس نظام کی حدود اور اس کے سنگین نتائج کی ایک واضح مثال بن چکا ہے۔
امریکی بحریہ نے ابھی تک اس سفر کے دوران پیش آنے والے طبی یا آپریشنل چیلنجز کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔ جہاز فی الحال بندرگاہ پر موجود ہے، لیکن اس بحث کا آغاز ہو چکا ہے کہ کیا امریکی فوج اپنی سب سے قیمتی دفاعی اثاثوں کو ضرورت سے زیادہ استعمال کرکے انہیں ناقابل تلافی نقصان تو نہیں پہنچا رہی۔
